دونوں اداروں سے اعزازیہ لینے کا شبہ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن فراز بہاءالدین نے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 11:39 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
دونوں اداروں سے اعزازیہ لینے کا شبہ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن فراز بہاءالدین نے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔
بھیونڈی کے آئی جی ایم سب ڈسٹرکٹ اسپتال اور میونسپل کارپوریشن کے ہیلتھ سینٹروں میں ۳؍ ڈاکٹروں کی کنٹریکٹ پر تقرری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ان کی حاضری، ڈیوٹی کے اوقات اور اعزازیے کی ادائیگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ این سی پی (شرد) کے کارپوریٹر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن فراز بہاءالدین نے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر ایم خان کو فروری ۲۰۲۴ء میں آئی جی ایم اسپتال میں ماہانہ ۷۵؍ ہزار روپے کے اعزازیے پر مقرر کیا گیا تھا۔ مئی ۲۰۲۵ءمیں انہیں نوری نگر کے ایچ بی ٹی آپلا دواخانہ میں بھی میڈیکل آفیسر مقرر کیا گیا، جہاں اعزازیہ ۶۰؍ ہزار روپے ماہانہ اور ڈیوٹی کا وقت دوپہر ۲؍سے رات ۱۰؍بجے تک تھا۔ اس تقرری میں ایس ٹی ریزرویشن کے ضابطوں پر عمل درآمد کا معاملہ بھی جانچ طلب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی
اسی طرح ڈاکٹر اے آر کو اپریل ۲۰۲۶ءمیں آئی جی ایم اسپتال میں مقرر کئے جانے کے بعد جولائی میں بندر محلہ کے اربن ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر میں بھی تعینات کیا گیا۔ ڈاکٹر ایس نائک کی جون میں آئی جی ایم اسپتال اور جولائی میں قاری ولی کے عارضی ہیلتھ سینٹر میں تقرری ہوئی۔ تینوں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی کے اوقات میں ٹکراؤ اور دونوں اداروں سے اعزازیہ لینے کے معاملے کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ معاملہ ۱۹؍ ستمبر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ محکمہ صحت نے تقرریوں اور متعلقہ اخراجات کی تفصیلات اگلی میٹنگ میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔فراز بہاءالدین نے کہا کہ تقرریوں کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے کردار کی جانچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل حاضری، ڈیوٹی روسٹر اور ادائیگیوں کا موازنہ کرکے حقیقت سامنے لائی جاسکتی ہے۔
اس ضمن میں تھانے کے سول سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہا کہ انہیں بیک وقت۲؍ اداروں میں کام کرنے کے کسی معاملے کی اطلاع نہیں ہے۔ آئی جی ایم اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مادھوی پنڈھارے نے بتایا کہ دونوں اداروں میں تقرری کے اختیارات الگ ہیں اور ڈیوٹی کے اوقات میں ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر ذمہ دار ہوگا ۔دریں اس معاملے میں میونسپل کارپوریشن کے چیف میڈیکل آفیسر سندیپ گاڈیکر سے رابطہ نہیں ہوسکا۔