• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایس آئی آر میں منطقی تضاد کو واضح کریں‘‘

Updated: September 23, 2026, 9:09 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت، ای میل اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ دستاویز جمع کرانے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی صلاح دی۔

Petitioner`s lawyer Prashant Bhushan speaking to the media outside the Supreme Court. Photo: INN
عرضی گزار کے وکیل پرشانت بھوشن سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

 انتخابی فہرستوں  کی خصوصی جامع نظر ثانی مہم (ایس آئی آر) کے دوران ووٹرس کو ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام سے جاری ہونے والے  نوٹس  کے حوالہ سے داخل کی گئی ایک پٹیشن پر سماعت کے دوران منگل کو سپریم کورٹ   نے اتفاق کیا کہ یہ نوٹس’’میکانیکی ‘‘انداز کے ہیں۔  عدالت نے منطقی تضاد کو واضح کرنے کی ہدایت  دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے  الیکشن کمیشن کو یہ صلاح  بھی دی کہ  وہ رہنما خطوط جاری کرے کہ کس منطقی تضاد کیلئے کیا دستاویز فراہم کرنا ہوگا۔  چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے ایڈوکیٹ  پرشانت بھوشن  نے جب یہ نشاندہی کی کہ نوٹس آ جانے  پرووٹر کو بہ نفس نفیس بی ایل او کے سامنے حاضر ہوکر دستاویز پیش کرنے پڑتے ہیں، کورٹ نے کمیشن کو  وہاٹس ایپ اور  ای میل کے ذریعہ دستاویز کی فراہمی کا نظم کرنے کی صلاح دی۔

 ایس آئی آر کے کئی پہلوؤں پر اعتراض 

عدالت سماجی کارکن انجلی بھاردواج اور امرتا جوہری کی پٹیشن پر سماعت کررہی تھی جس میں  ایس آئی آر کے کئی پہلوؤں پر اعتراض کیا گیا ہے۔  سپریم کورٹ نے پٹیشن کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیاہے۔ معروف وکیل پرشانت بھوشن  اور نیہا راٹھی نے عرضی گزاروں کی پیروی کرتے ہوئےنشاندہی کی کہ ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر جن امور پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں،ان کا کسی بھی شہری کے ووٹ دینے کے حق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  انہوں نے بطور مثال  والدین اور ووٹر کے درمیان عمر کا فرق ۱۵؍ سال اور دادا دادی  کے ساتھ ۴۰؍ سال  سے کم ہونے پر نوٹس جاری کرنے کا حوالہ دیا۔ انہوں  نے بتایا کہ  اسی طرح ۶؍ سے زیادہ بھائی بہنوں کی صورت میں یا بھائی بہنوں کی عمر میں  ۹؍ ماہ سے کم  کے فرق کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جارہےہیں۔   

عدالت نے بھی اتفاق کیا

جسٹس باغچی نے اس دلیل سے اتفاق کیا اور  کہاکہ ’’نوٹس تقریباً میکانکی انداز میں بھیجے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ مشین سے تیار کئے گئے ہیں۔‘‘ چیف جسٹس سوریا کانت نے الیکشن کمیشن سے کہاکہ ’’آپ کو ’منطقی تضاد‘ کی اصطلاح کو کچھ مزید واضح کرنا ہوگا۔‘‘   پرشانت بھوشن  نے ایک ایسے نوٹس کی  مثال دیجس میں کہا گیا تھا کہ ووٹر اور اس کے والدین کی عمر میں فرق۱۵؍سال سے کم ہے اور سوال کیا کہ کوئی ووٹر عمر کے اس فرق کی وجہ کیسے ثابت کرے گا۔

منطقی تضاد: ڈرافٹ لسٹ میں نام آجانے کے بعد بھی خطرہ برقرار

’ منطقی تضاد  کا مسئلہ اس لئے اہم ہے کہ جن  کے نام ڈرافٹ لسٹ میں آگئے ہیں ان میں سے بھی  بڑی تعداد کو یہ نوٹس جاری ہوئے ہیں۔  مہاراشٹر کی ڈرافٹ لسٹ میں ۶۵؍ لاکھ نام  ایسے ہیں جن کو منطقی تضاد کی بنیاد پر نوٹس جاری ہوںگے جبکہ ’اَن میپڈ‘ ووٹرس کی تعداد  ۵۷؍ لاکھ ہے۔ اس طرح  ایک کروڑ سے زائد  ایسے نام ڈرافٹ لسٹ میں ہیں  جنہیں بی ایل او کے سامنے پیش ہونا اور دستاویز دینا ہوگا ورنہ ان کے نام حتمی فہرست سے حذف ہوجائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK