• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کینیا: بھوک سے ہلاکتوں کے ذمہ دار فرقے کے سربراہ کو۲؍سو سال قید کی سزا

Updated: November 07, 2026, 3:53 PM IST | Agency | Nairobi

اس کے ذریعہ اپنے پیروکاروں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر ہلاک کردیں تاکہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میں پہنچ سکیں۔

Paul Mackenzie (right), head of the ‘Good News International Church’. Photo: AP/PTI
’گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ‘ کےسربراہ پال میکنزی(دائیں)۔ تصویر: اےپی/ پی ٹی آئی

کینیا کی ایک عدالت نے بھوک سے ہلاکتوں کے ذمہ دار فرقے کے سربراہ پال میکنزی کو ۱۹۰؍ بچوں اور ایک بالغ شخص کے قتل کے جرم میں۲؍سو سال قید کی سزا سنائی ہے۔جج ڈیانا کاویدزا نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میکنزی کو بھوکا رکھ کر قتل کرنے کے جرم میں۱۰۰؍ سال اور براہ راست قتل کے جرم میں مزید۱۰۰؍سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ تمام۱۹۱؍ متاثرین کو اس کے حکم پر بھوکا رکھ کر ہلاک کیا گیا اور بعد میں جنگل میں دفن کردیا گیا۔ 

میکنزی کے ساتھ گزشتہ ماہ مجرم قرار دیئے گئے اس کے۲۸؍ساتھیوں کو بھی مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔خود ساختہ پادری میکنزی اور اس کے قائم کردہ ’گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ‘ نے ایک عیسائی فرقہ تشکیل دیا تھا جس کے پیروکاروں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر ہلاک کردیں تاکہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میںپہنچ سکیں اور حضرت عیسیٰ ؑسے ملاقات کرسکیں۔

یہ بھی پڑھئے:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عہدہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی

اس کے ساتھیوں نے پیروکاروں کو احکامات پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے انہیں دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔میکنزی، جو سرمئی رنگ کی پولو شرٹ اور سیاہ پتلون پہنے ہوئے تھا، عدالت کے باہر سماعت کے لئے لگائے گئے خیمے میں داخل ہوتے وقت مسکرا رہا تھا۔ اس نے قتل کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے متاثرین کو بھوکا رہنے پر مجبور نہیں کیا لیکن ممباسا کی عدالت نے اس کا دفاع مسترد کردیا۔

پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد ۲۰۲۳ء میں میکنزی کو گرفتار کیا تھا۔ چند ہفتوں بعد حکام نے کینیا کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں واقع شاکاہولا جنگل سے لاشیں برآمد کرنا شروع کیں۔لاشیں انتہائی لاغر حالت میں اتھلی قبروں اور بیت الخلاء کے گڑھوں میں پھینکی ہوئی ملی تھیں۔ بعض افراد کو زندہ دفن کئے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے۔کینیا کے حکام کے مطابق شاکاہولا سانحے میں۴؍سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جس کے باعث یہ ملک کی تاریخ کے فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے جڑے مہلک ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔اس سانحے کی سنگینی کا موازنہ یوگانڈا میں ۲۰۰۰ءکے اس فرقے کے ہاتھوں ۷؍سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور۱۹۷۸ءمیں گیانا کے جونز ٹاؤن قتل عام سے کیا جارہا ہے جہاں ایک امریکی فرقے کے سربراہ نے اپنے پیروکاروں کو زہر پینے کا حکم دے کر۹؍سو سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK