Inquilab Logo Happiest Places to Work

جادوپور یونیورسٹی میں اے بی وی پی اور بائیں بازو کے طلبہ میں تصادم، کئی زخمی

Updated: August 21, 2026, 11:32 AM IST | Agency | Kolkata

بدھ کی رات جادو پور یونیورسٹی میں جنرل باڈی (جی بی) کی میٹنگ کے دوران اس وقت حالات بگڑ گئے جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے اراکین اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین  کے طلبہ کے درمیان زبانی تکرار ہاتھا پائی میں بدل گئی۔

Entrance gate of Jadavpur University. Picture: INN
جادوپور یونیورسٹی کا داخلی دروازہ۔ تصویر: آئی این این

بدھ کی رات جادو پور یونیورسٹی میں جنرل باڈی (جی بی) کی میٹنگ کے دوران اس وقت حالات بگڑ گئے جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے اراکین اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین  کے طلبہ کے درمیان زبانی تکرار ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ رپورٹس  کے مطابق دونوں طرف سے کئی طلباء زخمی ہوئے جن میں سے کچھ کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ کیسے شروع ہوا اس بارے میں متضاد بیانات ہیں۔ اے بی وی پی کا دعویٰ ہے کہ جنرل باڈی کی میٹنگ کے دوران اس کے کچھ ارکان کو گھیر لیا گیا اور ان سے ہاتھا پائی کی گئی۔دوسری طرف فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین نے الزام لگایا ہے کہ اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ میٹنگ میں پہنچے، اشتعال انگیز تبصروں سےماحول کو بھڑکا دیا اور پھر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی ہونے والے اے بی وی پی کے ایک طالب علم ارنب داس نے کہا’’آج بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کی طرف سے بلائی گئی جنرل باڈی میٹنگ میں، انہوں نے کسی بھی حکومتی ہدایات کی تعمیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے بغیر ایسا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟

مزید برآں، ہمارے ہائیر ایجوکیشن منسٹر نے کہا ہے کہ کالج کیمپس میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے کہا کہ یونین روم میں نعرے نہیں لگنے چاہئیں کیونکہ یونین کے الیکشن نہیں ہوئے تھے۔ اچانک مجھے دھکا دیا گیا، اور میرا چشمہ گر گیا۔ جب سینئرز مجھے بچانے آئے تو وہ بھی زخمی ہو گئے۔‘‘ارنب نے مزید کہا کہ جب کہ ابتدائی طور پر تقریباً۷۰،۸۰؍ لوگ جمع تھے، جب اصل جھگڑا شروع ہوا تو صرف۲۰؍ کے قریب موجود تھے۔‘‘دوسری جانب فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین کے رکن ویدک نے کہا کہ ہم ایک تنظیمی میٹنگ کر رہے تھے، یہ میٹنگ یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم کے بینک اکاؤنٹ کے انتظام کیلئے مجاز دستخط کنندگان کو نامزد کرنے کیلئے بلائی گئی تھی۔ طلبہ کا ایک مخصوص گروپ اشتعال انگیز ریمارکس دے رہا تھا۔ اس وقت صورتحال بڑھ گئی، اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔‘‘ویدک نے الزام لگایا کہ ان کے کچھ طالب علموں پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانس کی لاٹھیوں اور درختوں کی شاخوں کا استعمال کرتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین نے مزید الزام لگایا کہ کئی افراد کو کیمپس سے باہر گھسیٹ کر مارا پیٹا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK