Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟

Updated: August 19, 2026, 3:45 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

نیا جی آر جاری کیا جس کی رو سے وزیر اعلیٰ کو اب کسی بھی وزیر کے فیصلے کو بدلنے کا اختیار ہوگا، کوئی بھی فائل منگوا ئیں تو محکمے کو دینی ہوگی۔

Does Devendra Fadnavis want to bring transparency or show his power? Picture: INN
دیویندر فرنویس شفافیت لانا چاہتے ہیں یا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں؟۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ایک جی آر ( سرکاری حکم نامے کے ذریعے) اپنی طاقت اور اختیارات میں مزید اضافہ کر لیا ہے۔ حال ہی میں پیش کردہ مہاراشٹر حکومت طریقۂ کار قانون ۲۰۲۶ء کے مطابق وزیر اعلیٰ کو اختیار ہوگا کہ وہ ’عوامی مفاد‘ میں کسی بھی وزیر کے فیصلے کو تبدیل کر دیں۔ کسی سرکاری افسر یا سرکاری ادارے کے سربراہ کے فیصلے کو بھی وہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسا کرنے کیلئے انہیں متعلقہ محکمے یا وزارت کو تحریری طور پر اس کی وجہ بتانی پڑے گی۔ بظاہر اسے تمام وزارتوں اور محکمومیں شفافیت لانے اور افسران کو جوابدہ بنانے کیلئے نافذ کیا گیا قانون بتایا جا رہا ہے لیکن اس کی وجہ سے آئندہ تنازعات پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے کیونکہ موجودہ حکومت ۳؍ الگ الگ پارٹیوں کے  اتحاد سے قائم ہوئی ہے جن کے درمیان مختلف فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے آئی سی سی کی صدر اور سنیئر وکیل پر پابندیاں عائد کیں، شدید ردعمل

یاد رہے کہ مہایوتی میں شامل بی جے پی کی حلیف  این سی پی اور شیوسینا (شندے) کو وقفے وقفے سے یہ شکایت کرتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ان کے محکموں میں مداخلت کی جا رہی ہے یاان کا فنڈ کہیں اور استعمال کیا جا رہا ہے، یا پھر کے پروجیکٹ منظور نہیں کئے جا رہے ہیں۔ اب وزیرا علیٰ دیویندر فرنویس نے ایک نیا جی آر جاری کیا ہے جسے ’’ مہاراشٹر حکومت طریقۂ کار قانون ۲۰۲۶ء‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس قانون کی رو سے اب وزیر اعلیٰ کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وزیر کے کئے گئے فیصلے کو عوامی مفاد میں تبدیل کر دے۔ البتہ وزیر اعلیٰ کو اس تبدیلی کی وجہ تحریری طور پر بتانی ہوگی۔ جی آر کے مطابق کوئی بھی وزیر ہی اس کے محکمے کا حاکم ہوگا اور اسے فیصلے کرنے کا پورا اختیار ہوگا لیکن وزیر اعلیٰ کسی بھی وزارت یا محکمے کی فائل یا کاغذات منگوا سکتے ہیں اور متعلقہ وزارت یا محکمے کو اسے فوری طور پر وزیر اعلیٰ کو دینا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ ریاست کے کسی بھی سرکاری افسر یا سرکاری ادارے کے سربراہ کے فیصلوں کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری محکموں میں شفافیت لانے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے سرکاری افسران میں جوابدہی پیدا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: امیت مالویہ: کیا جین زی احتجاج میں بی جےپی آئی ٹی سیل کی ناکامی رخصتی کا سبب بنی؟

 یاد رہے کہ کسی وزیر کے کئے گئے فیصلے کو تبدیل کرنا یا کسی بھی محکمے کی فائل براہ راست منگوا لینے سے  سرکاری کام کاج میں کس حد تک شفافیت آئے گی اس کا اندازہ تو وقت آنے پر ہی ہو سکے گا لیکن اس وقت سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ اس کی وجہ سے سرکاری محکموں میں کنفیوژن کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی وزیر کے فیصلے کو تبدیل کرنا براہ راست مداخلت کہلائے گی اورظاہر سی بات ہے کہ اس سے کوئی بھی وزیر خوش نہیں ہو سکتا ۔ نیز وزیر اعلیٰ کے ذریعے کسی سرکاری افسر سے براہ راست فائل منگوانے اور باز پرس کرنے پر افسران اس مخمصے میں پڑ سکتے ہیں کہ وہ اپنے محکمے کے وزیر کی بات سنیں یا وزیر اعلیٰ کی؟  اس سے وزیر کی اہمیت کم ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہ بھی پڑھئے؛ جھارکھنڈ میں مظاہرین نے سرکار کا شکریہ ادا کیا لیکن احتجاج جاری

منترالیہ کے حلقوں میں کئی طرح کے سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ برسوں سے چلے آ رہے طریقۂ کار کو تبدیل کرکے دیویندر فرنویس نیا نظام کیوں نافذ کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا انہیں اپنے ہی مقرر کردہ وزیر وں پر اعتماد نہیں ہے؟کیا اس کی وجہ سے حکومت کے اندر اختلافات میں اضافہ نہیں ہوگا؟ کہیں یہ مہایوتی کی حلیف پارٹیوں این سی پی اور شیوسیناپر قدغن لگانے کی کوشش تو نہیں ہے؟ یاد رہے کہ میڈیا میں اسطرح کی خبریں کئی بار آئی ہیں کہ مہایوتی حکومت کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں میں کھینچ تان جاری رہتی ہے۔ کہیں فرنویس کا فیصلہ اسی کھینچ تان کا نتیجہ تو نہیں ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK