Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلین انرجی: ہندوستان میں سی این جی نیٹ ورک پھیل رہا ہے

Updated: August 29, 2025, 8:19 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ صاف توانائی کی کوششوں کے درمیان، ملک میں سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد موجودہ۸۱۵۰؍ سے دُگنی ہو کر اگلے ۵؍برسوں میں۱۸؍ہزارہو جائے گی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں شہری گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک میں غیر معمولی توسیع ہوئی ہے۔

Clean Energy.photo:INN
کلین انرجی۔ تصویر:آئی این این

صاف توانائی کے تحت ہندوستان۲۰۳۰ء تک سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد کو دُگنا کرکے۱۸۰۰۰؍ تک لے جائے گا۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے جمعہ کو یہ معلومات دی۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں  پوری نے حکومت کی ون نیشن، ون گیس گرڈ اسکیم کے تحت کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۱۴ء میں ملک میں صرف۷۳۸؍ سی این جی اسٹیشن تھے۔ آج یہ تعداد۸۱۵۰؍  سے بڑھ گئی ہے۔ یہ بسوں، آٹوز اور کاروں کو سستے اور صاف ایندھن کے ساتھ توانائی فراہم کر رہا ہے۔۲۰۳۰ء تک یہ نیٹ ورک۱۸؍ہزار سے زیادہ اسٹیشنوں تک پھیل جائے گا۔

یہ بھی پڑھئیے:ٹیسلا کو یورپ میں بڑا دھچکا، کاروں کی فروخت میں کمی

شہری گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک کی توسیع
مرکزی وزیر نے کہا کہ شہری گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک میں گزشتہ دہائی میں غیر معمولی توسیع دیکھی گئی ہے۔ جو نیٹ ورک۲۰۱۴ء میں صرف۵۵؍ جغرافیائی علاقوں تک محدود تھا آج بڑھ کر۳۰۷؍ علاقوں تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تقریباً پورے ملک پر محیط ہے، جس میں۹۹؍ فیصد آبادی اور۹۶؍ فیصد زمینی رقبہ ہے۔

۵۲ء۱؍ کروڑ گھرپی این جی  سے منسلک ہیں 
فی الحال۵۲ء۱؍ کروڑ گھر پائپڈ نیچرل گیس(پی این جی) سے جڑے ہوئے ہیں  جو کچن کو محفوظ اور صاف ستھرا بناتے ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے گیس پائپ لائن نیٹ ورک اس نظام کی ریڑھ ہے۔ فی الحال، پائپ لائنز۲۵۴۲۹؍ کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں اور جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے ۲۰۳۰ءتک اس کے۳۳۴۷۵؍ کلومیٹر تک پھیلنے کی توقع ہے۔ یہ مربوط نظام ساحلوں سے دور دراز کے قصبوں تک ایندھن کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بناتا ہے۔
ملک گرین فیول کی طرف بڑھ رہا ہے 
پوری نے زور دے کر کہا کہ ملک سبز ایندھن کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔ اب تک ۱۱۳؍ کمپریسڈ بائیو گیس  پلانٹس کام کر چکے ہیں  اور۷۸؍ مزید پلانٹس پائپ لائن میں ہیں۔ گزشتہ سال تقریباً۴۲۸۰۰؍ ٹن سی بی جی خریدا گیا تھا۔ اس سال کے لیے ملاوٹ کا ہدف ایک  فیصد مقرر کیا گیا ہے جسے ۲۰۲۸ء تک بڑھا کر ۵؍فیصد کر دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK