Updated: July 25, 2026, 10:12 PM IST
| Madrid
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر ایک نہایت جذباتی انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اپنے دفتر میں غزہ کے ایک بچے کی بنائی ہوئی تصویر رکھتے ہیں تاکہ وہاں کے بچوں کی تکلیف اور جنگ کے انسانی المیے کو کبھی فراموش نہ کریں۔ سانچیز نے کہا کہ ہر روز اس تصویر پر نظر پڑتے ہی انہیں غزہ کے معصوم بچوں کا دکھ یاد آ جاتا ہے اور یہی احساس انہیں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے جذباتی اور انسانی ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ یہ ایک بار پھر غزہ پر اسپین کے سخت مؤقف کو نمایاں کرتا ہے۔
پیڈرو سانچیز غزہ کے بچے کی ڈرائینگ دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
جنگیں صرف شہروں کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ بچوں کے خواب، ان کی مسکراہٹیں اور رنگوں سے بھری تصویریں بھی چھین لیتی ہیں۔ غزہ میں جاری تباہی کے درمیان ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کو جذباتی کر دیا۔ سانچیز نے انکشاف کیا کہ ان کے دفتر میں ایک ایسی تصویر آویزاں ہے جو غزہ کے ایک بچے نے بنائی تھی۔ ان کے مطابق وہ اس تصویر کو روزانہ دیکھتے ہیں تاکہ غزہ کے بچوں کے درد، ان کی محرومی اور جنگ کی انسانی قیمت کو کبھی نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر ان کے لیے صرف ایک فن پارہ نہیں بلکہ ایک خاموش یاد دہانی ہے کہ دنیا کے کسی بھی بچے کو ایسی زندگی نہیں گزارنی چاہیے جس میں خوف، بمباری اور بے گھری معمول بن جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے مسجد شہید
پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ’’کوئی بھی انسان، اور یقیناً کوئی بھی بچہ، غزہ میں جاری اس ہولناک صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ان کے مطابق دفتر میں رکھی گئی یہ تصویر انہیں روز یاد دلاتی ہے کہ سیاسی فیصلوں کے پیچھے حقیقی انسانوں کی زندگیاں ہوتی ہیں، جن میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپین ان چند یورپی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مسلسل زور دیا ہے۔ وزیراعظم سانچیز متعدد مواقع پر اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کر چکے ہیں اور شہری آبادی، خصوصاً بچوں، کے تحفظ کو عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین کے جنگلات میں بھیانک آتشزدگی، ایمرجنسی نافذ
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیوز میں سانچیز اپنے دفتر میں موجود اس تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ انہیں ہر روز یہ یاد دلاتی ہے کہ غزہ میں جاری انسانی المیہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی خاندانوں اور معصوم بچوں کی زندگیوں کی کہانی ہے۔ ان کے اس بیان کو مختلف زبانوں میں لاکھوں مرتبہ شیئر کیا گیا اور دنیا بھر سے صارفین نے اسے ہمدردی اور انسانی احساس کی ایک طاقتور علامت قرار دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ہسپانوی وزیر اعظم نے غزہ کے معاملے پر جذباتی اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہو۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سانچیز بارہا فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسپین نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا اور بعد ازاں اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھانے، اسلحے کی برآمدات محدود کرنے اور بین الاقوامی قانونی کارروائیوں کی حمایت جیسے اقدامات کی بھی وکالت کی۔ ان پالیسیوں کے باعث اسپین اور اسرائیل کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی بھی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑی کارروائی کا حکم
وزیراعظم کا اپنے دفتر میں غزہ کے بچے کی بنائی گئی تصویر رکھنا محض ایک ذاتی جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ اسپین کی موجودہ خارجہ پالیسی کے انسانی پہلو کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ سانچیز مسلسل اس مؤقف پر قائم ہیں کہ غزہ کے بحران کا حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، سفارت کاری، جنگ بندی اور دو ریاستی حل میں پوشیدہ ہے۔ غزہ کے ایک بچے کی بنائی گئی وہ سادہ سی تصویر اب اسپین کے وزیر اعظم کے دفتر کی دیوار پر لگی ہے، مگر اس کا پیغام سرحدوں سے کہیں آگے جا پہنچا ہے۔ سانچیز کے بقول، جب تک یہ تصویر ان کے سامنے موجود ہے، وہ غزہ کے بچوں کے درد کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔