کولمبیا کے صدرگستاوو پیترونے وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکی ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کی، انہوںنے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کراکس یا لاطینی امریکہ کے کسی ملک کو میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے، نہ شمال سے اور نہ جنوب سے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 9:04 PM IST | Bogota
کولمبیا کے صدرگستاوو پیترونے وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکی ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کی، انہوںنے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کراکس یا لاطینی امریکہ کے کسی ملک کو میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے، نہ شمال سے اور نہ جنوب سے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیترو نے بدھ کووینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے لاطینی امریکی ممالک سے متحد ہونے کی اپیل کی۔پیترو نے یہ بات پناما میں لاطینی امریکہ اور کیریبین ڈویلپمنٹ بینک (سی اے ایف) کے زیر اہتمام لاطینی امریکہ اور کیریبین بین الاقوامی اقتصادی فورم کے افتتاح کے موقع پر کہی۔امریکہ کا نام لیے بغیر، پیترو نے اس مہینے کے آغاز میں وینزویلا پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ کراکس یا لاطینی امریکہ کے کسی ملک کو میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے، نہ شمال سے اور نہ جنوب سے۔ہماری قوموں نے تاریخ کو اس طرح تشکیل دیا ہے کہ ہمیں خود کو ایک لاطینی امریکی اور کیریبین تہذیب کے طور پر دیکھنا شروع کر دینا چاہئے۔ متنوع، انتہائی مختلف، لیکن باہم جڑی ہوئی۔‘‘
بعد ازاں بین الاقوامی چیلنجوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، پیترو نے دلیل دی کہ منشیات کی اسمگلنگ، موسمیاتی بحران، اور بڑھتے ہوئے تنازعات جیسے عالمی خطرات کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ علاقائی یکجہتی ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ لاطینی امریکہ کی اصل طاقت میزائلوں یا پیسے سے نہیں آتی، پیترو نے کہا، ’’حقیقی دولت زندگی میں ہے، فطرت میں ہے، ثقافتی تنوع میں ہے، اور دنیا کو جنگ کی بجائے پرامن متبادل پیش کرنے کی تلاش میں ہے۔ کیا ہم ٹکڑے ٹکڑے اور الگ تھلگ رہنے پر رضامند ہوں گے، یا ہم ایک حقیقی اتحاد تعمیر کریں گے؟
تاہم برازیل، پاناما، بولیویا، جمیکا، ایکواڈور، اور گوئٹے مالا کے صدروں کے ساتھ کولمبیا اور چلی کے منتخب صدر خوسے آنتونیو کاسٹ نے بھی فورم میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ لاطینی امریکی ملک وینزویلا پر امریکی صدر ٹرمپ نے منشیات کی مبینہ اسمگلنگ کا الزام عائد کرکے، اس کے صدر نکولس مادورو کو ایک خفیہ فوجی آپریشن کے بعد گرفتار کرلیا تھا، اس امریکی اقدام نے خطے کے دیگر ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ پیترو کی یہ اپیل اسی پس منظر میں کی گئی ہے۔