• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ، تہران ’منصفانہ‘ مذاکرات کیلئےتیار، ایٹمی ہتھیاروں کی خواہش نہیں

Updated: January 29, 2026, 6:20 PM IST | Tehran/Washington/Brussels

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ وہ ”شاید جنگ چھیڑنے کے قابل ہوسکتے ہیں، لیکن وہ اس کے خاتمے کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔“

Trump and Araghchi. Photo: X
ٹرمپ اور عراقچی۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں کے بعد تہران نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج کی انگلیاں ”ٹرگر پر“ ہیں، اور اگر واشنگٹن نے فوجی حملے کئے تو ایران اس کا ایسا جواب دےگا جو (اس کی جانب سے)؟”پہلے کبھی نہ دیا گیا“ ہوگا۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اور امریکی بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے سے انکار کیا تو اسے ”بڑی تباہی“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کا سخت انتباہ، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیا اور تہران کے موقف کو دہرایا۔ انہوں نے لکھا کہ ایرانی افواج اپنی سرزمین کے خلاف ”کسی بھی جارحیت کا فوری اور طاقتور جواب“ دینے کیلئے تیار ہیں۔ فوجی تیاریوں پر زور دیتے ہوئے عراقچی نے ساتھ ہی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ”منصفانہ اور مساوی جوہری معاہدے“ کیلئے اب بھی تیار ہے، لیکن مذاکرات صرف ”برابری کی بنیاد“ پر اور دھمکیوں یا خوف و ہراس سے پاک ماحول میں کئے جائیں گے۔ 

عراقچی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی خواہش نہیں کی اور ایسے ہتھیاروں کی تہران کے سلامتی کے حسابات میں ”کوئی جگہ“ نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی اسی پیغام کو دہرایا۔ ایک سینیئر ایرانی اہلکار کے مطابق تہران مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن کسی بھی امریکی حملے کو ”اسلامی ملک کے خلاف ہمہ گیر جنگ“ تصور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: زیلنسکی، پوتن سے مذاکرات کیلئے تیار، یوکرین کا ۲۰؍ نکاتی امن منصوبہ زیر غور

امریکی حکام کی ایران مخالف بیان بازی

ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے سینیئر لیڈران نے ایران کے خلاف ان کے سخت موقف کی حمایت کی ہے۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانی عوام کی حمایت کے وعدوں کو پورا کریں گے۔ گراہم نے فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”جب ڈونالڈ ٹرمپ آپ سے کوئی وعدہ کرتے ہیں، تو وہ اسے ضرور پورا کریں گے۔“ انہوں نے ایران کو ”دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی سرپرست“ بھی قرار دیا۔

دوسری طرف، کانگریس کے اجلاس کے دوران، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بیان دیا کہ ایران جیسی حکومتوں نے یہ دکھایا ہے کہ مظاہرین پر پرتشدد کریک ڈاؤن ”مؤثر“ رہا ہے۔ انہوں نے اسلامی ملک کی صورتحال کو ”خوفناک“ قرار دیا۔ روبیو نے دلیل دی کہ تہران اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوچکا ہے، وہ تباہ حال معیشت اور ایسے احتجاج کا سامنا کر رہا ہے جن کا بامعنی حل نکالنے میں وہ ناکام ہے۔ 

نیویارک میں ایرانی مشن نے مارکو روبیو کے بیان کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن کو افغانستان اور عراق میں ماضی کی جنگوں کی لاگت یاد دلائی، جس میں امریکہ کے ۷ ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے اور اسے تقریباً ۷ کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگ بندی سےلاکھوں بچوں کی زندگی میں بہتری آئی ہے : اقوام متحدہ

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا انتباہ: ٹرمپ جنگ کے خاتمے کو کنٹرول نہیں کرسکتے

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے طرف سے ٹرمپ کو جنگ کے خلاف خبردار کیا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ ”شاید جنگ شروع کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں، لیکن وہ اس کے خاتمے کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔“ قالیباف نے ایران کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تہران مذاکرات کیلئے تیار ہے، لیکن انہوں نے ”زبردستی مسلط کردہ“ مذاکرات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایرانیوں کیلئے ضمانت شدہ معاشی فوائد کے بغیر سفارت کاری بے معنی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”ہم ڈکٹیشن (یکطرفہ ہدایات) کو مذاکرات نہیں سمجھتے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی دباؤ میں ہونے والی گفتگو سے صرف تناؤ کو فروغ ملے گا۔

یورپین یونین نے تحمل پسندی پر زور دیا

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ کے درمیان یورپی یونین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن نے تمام ریاستی اور غیر ریاستی عناصر پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے مشرقِ وسطیٰ میں غیر استحکام پھیل سکتا ہے۔ کمیشن کے ترجمان انوار الانونی نے خبردار کیا کہ فوجی کشیدگی سے علاقائی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK