Inquilab Logo Happiest Places to Work

کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۹۹۳؍ روپے کا اضافہ، گھریلو صارفین کیلئے راحت

Updated: May 01, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi

تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ۱۹؍ کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۹۹۳؍ روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔

LPG Cylinder.Photo:INN
ایل پی جی سلنڈر۔ تصویر:آئی این این

تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ کے روز۱۹؍ کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۹۹۳؍ روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد قومی راجدھانی میں ۱۹؍ کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھ کر۵ء۳۰۷۱؍ روپے ہو گئی ہے۔ تاہم گھریلو صارفین کے لیے راحت برقرار رہے گی کیونکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں کو مستحکم رکھا گیا ہے۔
سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں موجود ۳۳؍ کروڑ گھریلو ایل پی جی صارفین کے لیے قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔۲۸؍ فروری کو امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے ۱۹؍ کلوگرام والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں یہ تیسرا اضافہ ہے۔پہلی بار مارچ کے آغاز میں اس کی قیمت میں تقریباً ۱۱۵؍ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد یکم اپریل کو قیمتوں میں تقریباً ۲۰۰؍ روپے مزید اضافہ ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اہم ایندھن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جس کا براہ راست اثر عام عوام پر پڑتا ہے۔گھریلو ایئرلائنز کے لیے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ آئی او سی کے مطابق سرکاری تیل کمپنیوں نے عالمی ایندھن کی لاگت میں اضافے کو خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایئرلائنز اور مسافروں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:فرح خان، سونو سود سمیت دیگر فلمی شخصیات راہل رائے کی حمایت میں سامنے آئے

اس دوران حکومت نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر برآمدات کو کم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء سے پیٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمدات پر ایکسپورٹ ڈیوٹی (اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی - ایس اے ای ڈی) اور روڈ اینڈ انفراسٹرکچر سیس (آر آئی سی) عائد کیے گئے ہیں۔ اضافی ڈیوٹی کی شرحوں پر ہر ۱۵؍ دن بعد نظرثانی کی جاتی ہے اور آخری نظرثانی ۱۱؍ اپریل ۲۰۲۶ء سے مؤثر ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:فیڈرر، ندال اور سنر کی کامیابی کی برابری کر کے زیوریو سیمی فائنل میں


یہ شرحیں عالمی خام تیل، پیٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں جو گزشتہ نظرثانی کے بعد کے عرصے میں ریکارڈ کی گئی تھیں۔مرکزی حکومت نے یکم مئی ۲۰۲۶ء سے شروع ہونے والے اگلے پندرہ دن کے لیے نئی شرحیں جاری کر دی ہیں۔وزارت خزانہ نے کہاکہ ’’اس کے نتیجے میں ڈیزل کی برآمد پر ڈیوٹی ۲۳؍ روپے فی لیٹر (ایس اے ای ڈی - ۲۳؍روپے؛ آر آئی سی - صفر) ہوگی۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایف کی برآمد پر ڈیوٹی۳۳؍ روپے فی لیٹر (صرف ایس اے ای ڈی) ہوگی۔ پیٹرول کی برآمد پر ڈیوٹی صفر برقرار رہے گی۔‘‘ وزارت نے مزید کہا کہ گھریلو استعمال کے لیے منظور شدہ پیٹرول اور ڈیزل پر موجودہ ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK