Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے ہوائی کرایوں میں اضافے پر مرکز کو ڈانٹ پلائی

Updated: May 01, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi

بنچ نے تہواروں اور چھٹیوں کے موسم میں ٹکٹوں کی قیمتوں کے ریگولیشن سے متعلق جواب میں تاخیر پر سوال اٹھایا، درخواست میں من مانی اضافوں، سامان کی حد میں کمی اور مسافروں کے لیے شکایت کے نظام کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکز کو بار بار التوا پر تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ وضاحت دینے کو کہا کہ آیا حکومت ہوائی کرایوں میں اضافے، خاص طور پر تہواروں اور تعطیلات کے دوران، کو روکنے کے لیے کوئی مناسب نظام متعارف کرائے گی یا نہیں۔عدالت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ گزشتہ سال ۱۷؍ نومبر کو حکومت اور وزارت کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن اب تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:۷۰۰؍ کروڑ کے بجٹ میں بننے والی پربھاس کی ’’فوجی‘‘ کا سیکوئل نہیں آئے گا


جمعرات کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے شکایت کی کہ مرکز نے اب تک کوئی جواب داخل نہیں کیا۔اس پر بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس وکرم ناتھ نے مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انل کوشک سے پوچھا’’یہ کیا ہے؟ آپ کو جواب داخل کرنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟‘‘
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ حکومت قواعد بنانے کے عمل میں ہے اور انہوں نے ہوائی کرایوں میں اضافے کی وجہ ایران امریکہ جنگ کو قرار دیا، تاہم عدالت نے زبانی دلائل سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ تمام گزارشات صرف تحریری حلف نامے کی صورت میں پیش کی جائیں۔

یہ بھی پڑھئے:انفینٹینو نے امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کی تصدیق کر دی


بنچ، جس میں جسٹس سندیپ مہتا بھی شامل تھے، نے مرکز اور شہری ہوابازی کی وزارت کی جانب سے مزید تین سے چار ہفتے کی مہلت کی درخواست مسترد کر دی اور ہدایت دی کہ۸؍ مئی تک حلف نامہ داخل کیا جائے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت ۱۱؍ مئی کو ہوگی۔درخواست گزار کے مطابق ایئرلائنز کے’’غیر منظم، غیر شفاف اور استحصالی رویے‘‘ کی وجہ سے کرایوں میں من مانی اضافہ ہو رہا ہے، اور کئی سہولیات، جیسے سامان کی حد ۲۵؍ کلوگرام سے کم کر کے ۱۵؍ کلوگرام کرنا، بھی یکطرفہ طور پر کم کی گئی ہیں۔ درخواست گزار نے شکایت کی کہ مسافروں کے لیے کوئی مؤثر شکایت درج کروانے کا نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایئرلائنز ایسی غیر اخلاقی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK