Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹینس کھلاڑی نیشیکوری کیئی رواں سیزن کے اختتام پر سبکدوش ہو جائیں گے

Updated: May 01, 2026, 9:03 PM IST | New York

گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچنے والے پہلے ایشیائی مرد کھلاڑی اور ریو اولمپکس ۲۰۱۶ء کے کانسہ کا تمغہ جیتنے والے جاپان کے نیشیکوری کیئی نے رواں سیزن کے اختتام پر ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

Kei Nishikori.Photo:X
نیشیکوری کیئی- تصویر:ایکس

گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچنے والے پہلے ایشیائی مرد کھلاڑی اور ریو اولمپکس ۲۰۱۶ء کے کانسہ کا تمغہ جیتنے والے جاپان کے نیشیکوری کیئی نے رواں سیزن کے اختتام پر ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ۳۶؍سالہ نیشیکوری کیئی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور ایکس پر جاپانی اور انگریزی زبان میں لکھا’’آج میں ایک اعلان کر رہا ہوں۔ میں نے اس سیزن کے اختتام پر پیشہ ورانہ ٹینس سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘


انہوں نے مزید کہاکہ ’’بچپن ہی سے مجھے ٹینس کا جنون رہا ہے اور میں نے اپنے دل میں صرف ایک خواب سجائے اسے جاری رکھا کہ میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنا چاہتا ہوں۔ اے ٹی پی ٹور تک پہنچنا، بلند ترین سطح پر کھیلنا اور ٹاپ ۱۰؍ میں اپنی جگہ برقرار رکھنا ایسی چیزیں ہیں جن پر مجھے فخر ہے۔ جیت ہو یا ہار، کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں جو خاص ماحول میں نے محسوس کیا، اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:۷۰۰؍ کروڑ کے بجٹ میں بننے والی پربھاس کی ’’فوجی‘‘ کا سیکوئل نہیں آئے گا


نیشیکوری نے پہلی بار پانچ سال کی عمر میں ریکیٹ تھاما تھا اور ۱۳؍ سال کی عمر میں وہ امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے فروری ۲۰۰۸ءمیں ڈیلرے بیچ اوپن جیت کر ٹور پر اپنا پہلا خطاب حاصل کیا۔جاپان کے پہلے مرد کھلاڑی جو ٹاپ ۱۰؍ رینکنگ میں پہنچے، نیشیکوری نے ۲۰۱۴ء کے یو ایس اوپن سیمی فائنل میں اس وقت کے نمبر ون کھلاڑی نوواک جوکووچ کو شکست دی تھی (اگرچہ وہ فائنل میں مارین سیلک سے ہار گئے تھے)۔ ریو میں اپنے دوسرے اولمپکس کے دوران نیشیکوری نے کانسہ کے تمغے کے لیے ہونے والے مقابلے میں رافیل نڈال کو شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:انفینٹینو نے امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کی تصدیق کر دی


تاہم، نیشیکوری اپنے عروج کے دور میں بار بار لگنے والی چوٹوں کے باعث گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کا موقع گنواتے رہے۔ فی الحال ان کے کیریئر میں ۴۵۱؍ فتوحات اور ۱۲؍ خطابات شامل ہیں۔ نیشیکوری نے جذباتی انداز میں کہاکہ ’’ایسے لمحات بھی آئے جب بار بار زخمی ہونے کی وجہ سے میں سخت مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوا، جس کی وجہ سے میں اپنی مرضی کے مطابق کھیل پیش نہیں کر سکا، لیکن ٹینس سے میری محبت مجھے ہمیشہ کورٹ پر واپس لاتی رہی۔ میں اب بھی اپنا کیریئر جاری رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ماضی پر نظر ڈالوں تو میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا سب کچھ دیا اور میں اس سفر سے بہت خوش ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK