Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تیل کے تجارتی ذخائر کسی بھی وقت ختم ہو سکتے ہیں‘‘

Updated: May 20, 2026, 12:03 PM IST | Agency | Paris

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا کہ آئندہ کچھ دنوں میں قلت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

Fatih Birol.Photo:INN
فاتح بیرول-تصویر:آئی این این
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے پیر کو پیرس میں جی ۷؍ اجلاس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تجارتی تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جو صرف چند ہفتوں کیلئے کافی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تزویراتی ذخائر سے روزانہ ۲۵؍ لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں لایا جا رہا ہے، لیکن یہ ذخائر محدود ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں بہار کی کاشت کاری اور گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز سے ڈیزل، کھاد اور پٹرول کی طلب بڑھے گی، جس سے یہ ذخائر مزید تیزی سے ختم ہوں گے۔ انہوں نے مارکیٹ کی حقیقی صورت حال اور فیوچرس مارکیٹ کے درمیان تصوراتی فرق کی طرف بھی اشارہ کیا۔
یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو شروع ہونے والی امریکہ؍ اسرائیل۔ ایران جنگ کے بعد سے دنیا بھر میں تیل کی قلت اور اس کے داموں میں اضافے کی وجہ سے تشویش کا ماحول ہے۔ فی الحال یہ جنگ بند ہے لیکن اگر دوبارہ شروع ہوئی تو یہ بحران اور بڑھ سکتا ہے۔ 
فاتح بیرول کے مطابق فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے تیل کی مارکیٹ میں بڑا اضافہ ہوا  تھا اور تجارتی ذخائر بہت زیادہ تھے، لیکن جنگ نے صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ مارچ اور اپریل کے دوران عالمی ذخائر میں ریکارڈ ۲۴ء۶؍ کروڑ بیرل کی کمی آئی۔ اس کے سبب ۳۲؍ رکن ممالک پر مشتمل ایجنسی نے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے تاریخ میں پہلی بار تزویراتی ذخائرسے ۴۰؍ کروڑ بیرل تیل نکالنے کی منظوری دی، جس میں سے ۸؍ مئی تک ۱۶ء۴؍ کروڑ بیرل نکالا جا چکا ہے۔ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے ۲۰۲۶ء کے دوران عالمی سپلائی میں روزانہ ۳۹؍ لاکھ بیرل کی کمی آئے گی، جبکہ پہلے یہ توقع ۱۵؍ لاکھ بیرل تھی۔ اس صورت حال کے باعث عالمی سپلائی مجموعی طلب سے کم رہے گی۔
 
 
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور وہاں امریکہ اور اس کے دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے نہیں دے رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی خاصی متاثر ہوئی  ہے جس کا اثر تیل کے داموں کے علاوہ مقامی سطح پر قلت کی شکل میں پڑا ہے۔ 
 
 
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ایک جوہری پلانٹ پر حملے کے بعد جنگ بندی کی کوششیں معطل ہونے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی اختیارات پر غور کی توقعات کے باعث پیر کو تیل کی قیمتیں ۱۱۱؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، بعد میں ان میں کچھ کمی آئی۔ برینٹ خام تیل کے فیوچرز۰ء۸۳؍ فی صد اضافے کیساتھ ۱۱۰ء۲؍ ڈالر اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ ۱ء۰۴؍ فی صد اضافے کے ساتھ ۱۰۶ء۵؍ ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔تیل کی بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ جب تک ایران اور امریکہ جنگ میں کوئی ٹھوس رخ اختیار نہیں کیا جاتا تب تک مارکیٹ کی کوئی مستحکم صورتحال سامنے نہیں آئے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK