Inquilab Logo Happiest Places to Work

تائیوان: مقامی الیکشن کے امیدوار کے بل بورڈ پر ہند مخالف پیغام کے بعد تنازع

Updated: May 20, 2026, 11:02 AM IST | Taipei

تائیوان کے مقامی الیکشن کے ایک امیدوار کے بل بورڈ پر ہند مخالف پیغام کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا، اس بل بورڈ پر الٹاہندوستانی جھنڈا اور پگڑی پہنے ہوئے بھورے رنگ کے شخص پر ’’نہیں‘‘ کی علامت بنی ہوئی تھی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

تائپے ٹائمز کی خبر کے مطابق تائیوان کے مقامی الیکشن کے ایک امیدوار کے بل بورڈ پر ہند مخالف پیغام کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا، اس بل بورڈ پر الٹاہندوستانی جھنڈا اور پگڑی پہنے ہوئے بھورے رنگ کے شخص پر ’’نہیں‘‘ کی علامت بنی ہوئی تھی۔ یہ بل بورڈ لی ہنگ یی نے لگایا، جو آزاد امیدوار ہیں۔ کئی سوشل میڈیا صارفین نے اسے نسل پرستانہ قرار دیا۔اخبار نے رپورٹ کیا کہ یہ بل بورڈ کاؤشیونگ کے سیاوگانگ ضلع میں گینگمنگ بورو کے وارڈ چیف لی ہنگ یی نے لگایا تھا۔ لی نومبر میں ہونے والے سٹی کونسل کے انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں، حالانکہ وہ تائیوان پیپلز پارٹی کے رکن ہیں۔لی نے سی این اے کو بتایا کہ وہ مجموعی طور پر تارکین وطن کارکنوں کے مخالف نہیں تھے، لیکن خاص طور پر ہندوستان سے آنے والے تارکین وطن کارکنوں کے خلاف تھے۔ فوکس تائیوان کی ویب سائٹ نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تائیوان کو ہندوستانی تارکین وطن کارکنوں کے لیے کھولنے کی پالیسی میں ضروری معاون اقدامات اور انتظامی ضوابط کا فقدان ہے۔ حالانکہ  تائپے اور نئی دہلی انتظامی طریقہ کار، دستاویزات کی تصدیق اور صحت کی جانچ سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئےتائپے ٹائمز نے بتایا کہ۹؍ اپریل کو وزیر محنت ہنگ سن ہان نے کہا کہ تائیوان مینوفیکچرنگ، زراعت اور دیکھ بھال کے شعبوں میں کام کرنے کے لیے ابتدائی ۱۰۰۰؍ہندوستانی کارکنوں کو لا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پراسرائیلی حملے کے خلاف یورپ میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ

بعد ازاں نیو پاور پارٹی کے کاؤسنگ باب کے سربراہ، وانگ یی ہینگ نے کہا کہ ہندوستانی پرچم اور پگڑی جسے انہوں نے ایمان اور وقار کی علامت قرار دیاپر نہیں کی علامت لگانا بالکل جاہلانہ ہے، ۔کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ کیا بل بورڈ تائیوان میں ہندوستانیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نسل پرستی کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم، تائیوان ایشیا ایکسچینج فاؤنڈیشن کے ساتھی اور کالم نگار ثنا ہاشمی نے کہا کہ پوسٹر تائیوان میں اکثریت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتا، اور یہ کہ ملک میں ہندوستانیوں کو عام طور پر نسل پرستی کا سامنا نہیں ہے۔واضح رہے کہ اپریل ۲۰۲۵ء میں، ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ تائیوان میں۵۸۰۴؍ ہندوستانی تھے، جن میں سے۵۳۰۳؍ غیر مقیم ہندوستانی اور۵۰۱؍ ہندوستانی نژاد تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لاہور میں تقسیم سے قبل کے تاریخی ناموں کی بحالی، پرانی شناخت واپس لانے کا فیصلہ

ایک شخص جس نے خود کو تائیوان میں کئی سالوں سے رہنے والا ایک ہندوستانی بتایا تھا، نے ۱۲؍ مئی کو تائی پے ٹائمز کو بتایا کہ یہ پوسٹر ’’صاف اور براہ راست نسلی امتیاز‘‘ کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK