• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی جیلوں میں کریک ڈاؤن سے فلسطینی خواتین قیدیوں کی صحت ابتر: کمیشن

Updated: September 01, 2026, 10:01 PM IST | Tel Aviv

فلسطینی کمیشن کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں کریک ڈاؤن سے فلسطینی خواتین قیدیوں کی صحت مزید بگڑ گئی، ان خواتین کوطبی غفلت، بھیڑ، ناقص خوراک اور بار بار تعزیری اقدامات کا سامنا ہے۔

Extremist Israeli Minister Itmar Ben-Gower. Photo INN
انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتمار بین گوئیر۔ تصویر آئی این این

ایک فلسطینی قیدیوں کے ادارے نے پیر کو خبردار کیا کہ اسرائیلی حراست میں موجود متعدد خواتین قیدیوں کی صحت بگڑ رہی ہے، کیونکہ جیل حکام کی جانب سے چھاپوں، تلاشیوں اور تعزیری اقدامات میں شدت آ گئی ہے۔کمیشن برائے امور قیدیان و سابق قیدیان نے کہا کہ خواتین قیدیوں کی شہادتوں سے جیلوں اور تفتیشی مراکز میں بھیڑ، بنیادی ضروریات کی کمی، ناقص خوراک اور طبی غفلت کا پتہ چلتا ہے۔جیسا کہ کمیشن نے بتایا یہ حالات قیدیوں پر بڑھتے ہوئے جسمانی اور نفسیاتی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ان میں مغربی کنارے کے شہر تلکرم سے تعلق رکھنے والی عابر عودہ بھی شامل ہیں، جو دمہ اور غذائی نالی اور کمر کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔
عودہ، جن کی حراست سے قبل سرجری ہوئی تھی، نے کہا کہ انہیں صرف معدے کی دوائیں دی جا رہی ہیں جبکہ انہیں دیگر علاج کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل حکام نے۱۷؍ اگست کو ڈیمن جیل میں خواتین قیدیوں کے کمرے کی تلاشی لی اور اگلےدن ایک اور کریک ڈاؤن کیا، جس میں قیدیوں کو باہر نکالا گیا اور کپڑے اور ذاتی سامان ضبط کر لیا گیا۔کمیشن نے کہا کہ مغربی کنارے کے شہر جنین سے تعلق رکھنے والی یاسمین شعبان کو بھی رحم کی بیماری کے باعث علاج کی ضرورت ہے۔شعبان اس سے قبل تقریباً نو سال اسرائیلی جیلوں میں گزار چکی ہیں، مئی۲۰۲۵ء میں دوبارہ حراست میں لی گئیں اور اس کے بعد ان کے خلاف پانچ انتظامی حراستی احکامات جاری کیے گئے۔

مزید برآں اس نے یہ بھی بتایا کہ الخلیل کے جنوب میں سمّوع سے تعلق رکھنے والی نادین الدغمین شدید جلد کی خارش اور الرجی میں مبتلا ہیں، جبکہ بیت عُمّر سے تعلق رکھنے والی شہد عدی کو خارش (جربی) ہے۔کمیشن نے کہا کہ اسرائیلی انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر۱۹؍ اگست کو ڈیمن جیل میں داخل ہوا، جہاں اس نے فلسطینی قیدیوں کو دھمکیاں دیں اور ان کے خلاف کئے گئے اقدامات پر فخر کا اظہار کیا۔ساتھ ہی قبول کیا کہ خواتین قیدیوں کی سہولیات میں کمی اسی کی ایما پر کی گئی ہے۔
بعد ازاں کمیشن کے مطابق، ڈاکٹر امین کو دل کا دورہ پڑنے کی علامات ظاہر ہوئیں اور ان کا کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کیا گیا، جبکہ انہیں بلڈ شوگر کم، بلڈ پریشر غیر مستحکم، ہائی کولیسٹرول اور چکر آنے کی شکایت بھی تھی۔ایک وکیل نے روسی کمپاؤنڈ تفتیشی مرکز میں ان سے ملاقات کی تو ڈاکٹر امین نے خوراک اور کپڑوں کی کمی، بار بار تلاشی، چیخ پکار اور نفسیاتی دباؤ کو بیان کیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خواتین قیدیوں کو زبردستی ان کے سیلوں سے گھسیٹ کر ایک کونے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے اور انہیں حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔کمیشن نے خبردار کیا کہ ان کی حراستی صورتحال ان کی صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہے اور کہا کہ انہیں مسلسل طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کولمبیا یونیورسٹی: سابق اسرائیلی فوجی کی ’فلسطین حامی‘ بھیس میں مہم، شدید ردعمل

دریں اثناء کمیشن کے مطابق، اس وقت اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں تقریباً۹۲؍ فلسطینی خواتین قید ہیں۔فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے آغاز تک اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی کل تعداد تقریباً ۹۴۰۰؍تھی، جن میں۳۵۰؍ سے زائد بچے،۳۲۴۴؍ انتظامی حراستی اور۳۲۴۴؍ افراد شامل ہیں جنہیں اسرائیل ’’غیر قانونی جنگجو‘‘ قرار دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK