Updated: August 31, 2026, 7:07 PM IST
| Columbia
کولمبیا یونیورسٹی کے باہر سابق اسرائیلی فوجیوں کے فلسطینی حامی مظاہرین کا روپ دھار کر احتجاجی تحریک میں داخل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ ایک سابق اسرائیلی فوجی آدی کرنی کے خلاف غزہ میں مبینہ جرائم کے الزامات اور مختلف ممالک میں قانونی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے گیٹ پر فلسطین حامی مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور ایک فیکلٹی رکن کے مطابق، سابق اسرائیلی فوجی منگل کو کولمبیا یونیورسٹی کے باہر فلسطینی حامی مظاہرین کا بھیس اختیار کرکے میز لگائے بیٹھے تھے۔ اسرائیل کے حامی غیر منافع بخش ادارے Frontline Advocates نے منگل کو۱۱۶؍ براڈوے اور ویں اسٹریٹ کے داخلی دروازوں کے باہر ایک میز قائم کی۔ اس پر ایک سائن بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا: ’’ہم آئی ڈی ایف ہیں۔ ہم غزہ میں رہ چکے ہیں۔ ہم سے کچھ بھی پوچھیں۔ ‘‘ یہ بات’ Spectator‘ کی جانب سے دیکھی گئی تصاویر سے سامنے آئی۔ فیکلٹی رکن اور سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق، گروپ میں شامل کچھ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی حامی مظاہرین کا روپ دھار رکھا تھا، انہوں نے کفایہ پہن رکھی تھی اور میز کے قریب فلسطینی پرچم لہرا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل میپس پر ’’لیک اونٹاریو‘‘ کا نام ’’لیک امریکہ‘‘، کنیڈا کا سخت ردِعمل
اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ تنظیم سابق اسرائیلی فوجیوں اور اسرائیل کے حامی کارکنوں کے وفود کو پانچ ہفتوں کی تربیت کے بعد کالج کیمپسز اور عوامی مقامات پر بھیجتی ہے تاکہ وہ اسرائیل کی نمائندگی کریں۔ یہ گروپ اکثر اپنے ارکان کی راہ گیروں سے گفتگو اور ملاقاتوں کی ویڈیوز انسٹاگرام پر پوسٹ کرتا ہے۔ فیکلٹی رکن نے Spectator کو بتایا کہ وہ منگل کو تقریباً دوپہر ساڑھے بارہ بجے ان افراد کے پاس گئیں جو بظاہر فلسطینی حامی مظاہرین لگ رہے تھے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے تو مبینہ طور پر ان افراد نے اسرائیلی فوجیوں کو بلایا تاکہ وہ ان کے سوالات کا جواب دیں۔ فیکلٹی رکن کے مطابق، جب انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ ان کے پاس کوئی سوال نہیں ہے تو فوجیوں نے ان کی ویڈیو بنانا شروع کردی، انہیں گھیر لیا اور حزب اللہ، غزہ اور ان کے آبائی پس منظر سے متعلق’اشتعال انگیز‘سوالات پوچھنے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ایک شخص، جس نے اسکی ماسک پہن رکھا تھا، ان کے قریب آیا۔ جب انہوں نے اس شخص سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو فوجیوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ ان کی’حفاظت‘ کیلئے موجود ہے۔ فیکلٹی رکن نے بدھ کو Spectator کو دیئےگئے ایک بیان میں لکھا، ’’یہ صورتحال میرے لئے انتہائی پریشان کن تھی اور مجھے خود کو غیر محفوظ محسوس ہوا۔ ‘‘ انہوں نے گروپ کی جانب سے ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ فرنٹ لائن ایڈوکیٹس کے بانی اسٹیو کوہن نے انٹرویو پر رضامندی ظاہر کی، تاہم شرط رکھی کہ اشاعت سے قبل وہ مضمون پڑھیں گے۔ Spectator کی پالیسی کے تحت یہ شرط قبول نہیں کی گئی، جس کے بعد کوہن نے انٹرویو دینے سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: زیرِ حراست نکولس مادورو نے پہلی تصویر شیئر کی، مقدمہ جون ۲۰۲۷ء میں شروع ہوگا
فرنٹ لائن ایڈوکیٹس کے ساتھ کولمبیا یونیورسٹی کے باہر موجود اسرائیل کی حامی کارکنکلوئی ا سمتھ نے جمعرات کو Spectator کو بتایا کہ فوجیوں نے فلسطینی حامی مظاہرین کا بھیس اس لئے اختیار کیا تھا تاکہ راہ گیروں کی توجہ حاصل کی جاسکے اور انہیں میز پر موجود اسرائیل کے حامی کارکنوں سے بات کرنے کی طرف راغب کیا جائے۔ ان کے مطابق، گروپ نے یہ طریقہ اس وقت اختیار کیا جب پہلے دن بہت کم لوگ ان کی میز کے قریب آئے۔
فرنٹ لائن ایڈوکیٹس کی رکن اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ”Jewish Jess“ نے جمعرات کو انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ گروپ کے دو ارکان نے فلسطینی حامی مظاہرین کا روپ اس لئے دھارا تھا تاکہ میز کے قریب سے گزرنے والے فلسطینی حامی افراد سے’دوستی‘ کی جاسکے۔ انہوں نے اس حکمت عملی کو ایک ’جال‘ قرار دیا۔ ان اسرائیلی فوجیوں میں شامل آدی کرنی، جنہوں نے فلسطینی حامی مظاہر کا روپ اختیار کیا تھا، نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں کہا: ’’جب میں کفایہ پہنتا ہوں تو لوگ میری بات فلسطینی یا حماس کے دہشت گرد کی حیثیت سے زیادہ سنتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ آئی ڈی ایف کی بات سنیں۔ ‘‘کرنی نے انٹرویو کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں کو امریکہ منتقل ہونے کا حکم دیا
فرنٹ لائن ایڈوکیٹس کا نیویارک وفد کم از کم اتوار سے شہر کے مختلف احتجاجی مقامات کا دورہ کر رہا تھا۔ اس دوران گروپ نے کولمبیا یونیورسٹی، واشنگٹن اسکوائر پارک اور CUNY School of Law کے باہر میزیں لگائیں۔ گروپ نے اپنے ارکان کی لوگوں سے ملاقاتوں کی ویڈیوز انسٹاگرام پر پوسٹ کیں، تاہم جمعرات تک اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ @frontline_advocates بظاہر ہٹا دیا گیا تھا۔ میٹا نے اکاؤنٹ کی موجودہ حیثیت سے متعلق تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ یہودی مخالفِ صیہونیت سوشل میڈیا انفلوئنسر David Spevak، جو ’’David Says Stuff‘‘کے نام سے معروف ہیں، نے بدھ کو ایک ویڈیو میں کہا کہ واشنگٹن اسکوائر پارک میں بظاہر فلسطینی حامی مظاہرین نے ان سے رابطہ کیا اور خود کو غزہ کے فلسطینی طلبہ بتایا۔ ان کے مطابق، ان افراد نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ’مزاحمت‘ کے ساتھ ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے حماس کے۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے اسرائیل پر حملے کے متاثرین کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائیں اور بتایا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: وائٹ ہاؤس کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر پر ٹرمپ کی تقاریر پر سٹہ لگانے پر جرمانہ
حماس کے ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ءکے حملے اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف احتجاج کے باعث کولمبیا یونیورسٹی طویل عرصے سے احتجاج کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ اپریل۲۰۲۴ءمیں غزہ یکجہتی کیمپ اور ہیملٹن ہال پر فلسطینی حامی مظاہرین کے قبضے سے قبل یونیورسٹی نے اپنے داخلی دروازے بند کردیئے تھے۔ اگرچہ اس کے بعد کیمپس میں کشیدگی بڑی حد تک کم ہوگئی، تاہم احتجاج اکثر یونیورسٹی کے داخلی دروازوں کے عین باہر منتقل ہوگئے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے ترجمان نے یونیورسٹی کے داخلی دروازوں کے باہر فرنٹ لائن ایڈوکیٹس کی موجودگی کے حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
کولمبیا یونیورسٹی اور نیویارک شہر کے حکام طویل عرصے سے یونیورسٹی سے غیر وابستہ افراد، جنہیں ’بیرونی عناصر‘ کہا جاتا ہے، پر کیمپس اور اس کے اطراف میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، ہیملٹن ہال پر قبضے کے دوران گرفتار کئے گئے۴۴؍ مظاہرین میں سے۱۳؍ یونیورسٹی سے غیر وابستہ تھے۔ اس وقت کی یونیورسٹی صدر منوچے شفیق نے نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ سے کیمپ اور ہیملٹن ہال پر قابض مظاہرین کو ہٹانے کی درخواست کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کیمپس میں ہونے والے احتجاج نے یونیورسٹی کے داخلی دروازوں کے باہر سے آنے والے مظاہرین کو اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی: امریکی وفاقی عدالت
کیمپ کے بعد سے یونیورسٹی نے غیر وابستہ افراد کو کیمپس میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے بڑی حد تک اپنے دروازے بند رکھے ہیں۔ اس اقدام پر آس پاس کی کمیونٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور Morningside Heights اور West Harlem کے رہائشیوں نے ایک اجتماعی مقدمہ بھی دائر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دروازے بند رہنے سے انہیں کیمپس سے باہر کردیا گیا ہے۔ اکتوبر۲۰۲۵ءمیں یونیورسٹی نے ایک پروگرام شروع کیا جس کے تحت مقامی غیر وابستہ رہائشیوں کو باقاعدگی سے کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دی جانے لگی۔ گزشتہ ماہ یونیورسٹی کی موجودہ صدر جینیفر منوکن نے ویسٹ ہارلیم کے کمیونٹی ارکان کے ساتھ ایک ناشتے کی تقریب میں یونیورسٹی کے داخلی دروازوں کی بندش کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
ہند رجب فاؤنڈیشن کا ردعمل
ہم ہند رجب فاؤنڈیشن نے اس کی ( آدی کرنی )شناخت کی، غزہ میں اس کے مبینہ جرائم کے شواہد جمع کئے، پیرو میں اس کے خلاف کارروائی دائر کی، جہاں وہ تحقیقات کی زد میں ہے، اور امریکہ میں بھی اس کے خلاف قانونی کارروائی کی۔ ہم نے اٹلی، فرانس اور امریک میں بھی اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں اسے اس وقت بے نقاب کیا گیا جب وہ فلسطین کے حامی کا روپ دھار کر اس تحریک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جو انہی مبینہ جرائم کے خلاف احتجاج کرتی ہے، جن کا اس پر ارتکاب کا الزام ہے۔ اس شخص کی بے شرمی کی کوئی حد نہیں۔ ہم نے براعظموں کے پار اس کے نقشِ قدم کا پیچھا کیا ہے۔ ہم اس کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے نقشِ قدم جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا کر ختم نہیں ہوجاتے۔