دہلی کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے کیلئےکمیٹی تشکیل

Updated: October 17, 2020, 10:26 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

ریٹائرڈ جسٹس مدن بی لوکرکی قیادت میں تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو ۱۵؍ دن میں سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرنی ہو گی

Madan B. Lokar. Picture:INN
مدن بی لوکر۔ تصویر: آئی این این

کورونا سے جوجھ رہے قومی راجدھانی دہلی کے لوگوں کے سامنے فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی  پیدا ہو گیا ہے ۔ ابھی دہلی میں سردی شروع بھی نہیں ہوئی کہ فضائی آلودگی نے دستک دے دی ہے۔ یوپی ، ہریانہ اور پنجاب میں جس طرح سے پرالی جلائی جا رہی ہے اس کا اثر گزشتہ دنوں دہلی پر صاف نظر آیا ۔ صبح صبح لوگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے ۔ چنانچہ اس معاملہ میں  سپریم کورٹ نے از خود مداخلت کی ہے اور ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو پرالی جلا نے کی نگرانی کرے گی ۔  سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ جسٹس مدن بی لوکر کو منتخب کیا ہے۔حالانکہ یہ کمیٹی یک رکنی ہی ہے تاہم مذکورہ بالا تینوں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کمیٹی کی معاونت کریں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی فضائی آلودگی کا مسئلہ پیدا ہوا تھا ۔ اس پر قابو پانے کے لئے کافی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ۔ اتر پردیش ، ہریانہ اور پنجاب حکومت کو سپریم کورٹ نے پھٹکار لگائی تھی ۔ دہلی حکومت کی طرف سے بھی آڈ ایون شروع کیا گیا تھا ۔ ڈیزل کی گاڑیوں پر پوری طرح سے پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔ اس مرتبہ معاملہ مزید سنگین ہے ۔ اس مرتبہ کورونا بھی ہے ۔ کورونا کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہا ہے کہ سردی میں یہ بڑھے گا ۔ چنانچہ اب یہ ڈر پیداہو گیا ہے کہ کورونا فضائی آلودگی کے سبب زیادہ حملہ آور ہوگا ۔ سردی میں اگر پرالی جلائے جانے کے سلسلہ کو نہ روکا گیا تو مشکل بڑھ جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ خود سپریم کورٹ نے مداخلت کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کو بہتر بنانے کیلئے اس میں این سی سی ، این ایس ایس ، بھارت اسکاوٹ ، گائیڈ وغیرہ کی مدد لی جائے گی ۔ کمیٹی کو ۱۵؍ دن میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ کمیٹی عملی طور پر سروے کرے گی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ متعلقہ تینوں حکومتیں اس کمیٹی کو مناسب سہولت فراہم کرائیں ساتھ ہی سکریٹریٹ اور مالی سہولت بھی کمیٹی کو مہیا کرائی جانی ہے جس سے رپورٹ کی تیاری آسان ہو گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK