ہندوستانی شیئر مارکیٹ میں کمپنیوں نے مالی سال ۲۶ء میں ۱۵۳؍ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی اوز) کے ذریعے۲۰۱۴۴۲؍ کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔ یہ معلومات پیر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دی گئی۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 6:59 PM IST | Mumbai
ہندوستانی شیئر مارکیٹ میں کمپنیوں نے مالی سال ۲۶ء میں ۱۵۳؍ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی اوز) کے ذریعے۲۰۱۴۴۲؍ کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔ یہ معلومات پیر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دی گئی۔
ہندوستانی شیئر مارکیٹ میں کمپنیوں نے مالی سال ۲۶ء میں ۱۵۳؍ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی اوز) کے ذریعے۲۰۱۴۴۲؍ کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔ یہ معلومات پیر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے ایسے وقت میں آئی پی اوز کے ذریعے سرمایہ جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جب عالمی وجوہات کی بنا پر مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے دور سے گزر رہی تھی۔
ایچ ڈی ایف سی سیکورٹیز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی معیشت کی بنیاد مضبوط ہے اور مالی سال ۲۷ء میں معیشت کے ۵ء۶؍ فیصد کی شرح سے بڑھنے کا اندازہ ہے۔ حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے پر کیے جانے والے اخراجات کا کردار اہم رہا ہے، اور مالی سال ۲۰۲۷ء میں کل اخراجات کا تقریباً ایک تہائی حصہ سرمایہ جاتی اخراجات پر مشتمل ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سٹی کی آرسنل پر فتح: خطاب کی جنگ میں نیا موڑ
مہنگائی تقریباً ۵ء۴؍ فیصد کی سطح پر قابو میں رہنے کی توقع ہے، جبکہ مالی خسارہ بھی ۳ء۴؍فیصد کے ہدفی سطح پر برقرار رہ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بیرونی دباؤ برقرار ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کے کمزور بہاؤ اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی ) کی فروخت کے باعث ہندوستانی روپے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ ان تمام عوامل نے ۲۰۲۲ء کے آغاز سے روپے پر دباؤ ڈالنے کا کردار ادا کیا ہے۔آمدنی کے محاذ پر، رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی کارپوریٹ آمدنی میں تقریباً ۱۰؍ فیصد اضافہ ہوگا، اگرچہ مختلف شعبوں کی کارکردگی مختلف ہو سکتی ہے۔بینکنگ، صارفین کی اختیاری اشیا، دھاتیں اور ٹیلی کام شعبوں میں بتدریج بہتری کی توقع ہے، جبکہ توانائی کے شعبے پر کچھ دباؤ رہ سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر مڈ کیپ اور سمال کیپ حصوں میں، ویلیوایشن میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم وہ اب بھی طویل مدتی اوسط سے اوپر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مدثر عزیز اور آیوشمان کھرانہ کی ’’پتی، پتنی اور وہ ۲‘‘ کا ٹیزر ریلیز
رپورٹ کے مطابق، بینچ مارک انڈیکس تاریخی طور پر پرکشش سطحوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مارکیٹ میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی شرکت ایک اہم ستون بنی ہوئی ہے۔ ڈی میٹ اکاؤنٹس کی تعداد بڑھ کر ۲۲۲؍ ملین سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ فروری ۲۰۲۶ء میں فعال ایکویٹی ٹریڈرز کی تعداد ۴۸ء۱؍ کروڑ سے زیادہ رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میوچوئل فنڈز میں ایس آئی پی کے ذریعے سرمایہ کاری مضبوط ہے اور یہ سالانہ ۳۰؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔