Updated: October 26, 2026, 4:05 PM IST
| Mumbai
دنیا کے انتہائی امیر افراد میں سپر یاٹس رکھنے کا رجحان بڑھنے کے ساتھ ہی انہیں کھڑا کرنے کے لیے خصوصی بندرگاہوں اور مریناز میں جگہ حاصل کرنے کا مقابلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ سپر یاٹ محض تفریحی کشتی نہیں بلکہ دولت، شاہانہ طرزِ زندگی اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
دنیا کے انتہائی امیر افراد میں سپر یاٹس رکھنے کا رجحان بڑھنے کے ساتھ ہی انہیں کھڑا کرنے کے لیے خصوصی بندرگاہوں اور مریناز میں جگہ حاصل کرنے کا مقابلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ سپر یاٹ محض تفریحی کشتی نہیں بلکہ دولت، شاہانہ طرزِ زندگی اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ان بڑی اور پرتعیش کشتیوں کے لیے ایسی مریناز کی ضرورت ہوتی ہے جہاں مناسب گہرائی، محفوظ لنگرگاہ، بجلی، پانی، مرمت اور دیگر اعلیٰ درجے کی سہولتیں دستیاب ہوں۔ اسی لیے مقبول سیاحتی مقامات پر سپر یاٹس کے لیے موزوں جگہ حاصل کرنا دولت مند مالکان کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ۱۲؍ میٹر سے زیادہ لمبی تقریباً ۲؍ لاکھ ۱۰؍ ہزار کشتیوں کے مقابلے میں ان کے لیے موزوں مریناز میں صرف تقریباً ایک لاکھ ۶۰؍ ہزار جگہیں دستیاب ہیں۔ ۳۰؍ میٹر سے زیادہ لمبی سپر یاٹس کی تعداد بھی ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۵ءکے درمیان تقریباً ۴۰؍ فیصد بڑھ کر۶۲۳۹؍ ہوگئی۔ اس بڑھتی مانگ کے مقابلے میں نئی مریناز کی تعمیر محدود ہے، کیونکہ مناسب ساحلی زمین کی کمی، ماحولیاتی پابندیوں اور سرکاری منظوری کے پیچیدہ مراحل کی وجہ سے نئے منصوبوں کو مکمل ہونے میں عموماً پانچ سے دس سال لگتے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث فرانس کے جنوبی ساحل، موناکو، اٹلی اور دیگر مقبول بحیرۂ روم کے مقامات پر کشتیوں کو کھڑا کرنے کی جگہ حاصل کرنا مہنگا اور مشکل ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انتہائی مقبول مقامات پر موسمِ گرما کے عروج کے دوران بڑی سپر یاٹ کو لنگر انداز کرنے کا کرایہ تقریباً ۳۵۰۰؍ یورو فی رات تک پہنچ سکتا ہے۔ سپر یاٹس کے لیے جگہ کی کمی نے مریناز کو سرمایہ کاری کے ایک پرکشش شعبے میں تبدیل کردیا ہے۔ بلیک اسٹون نے امریکی مرینا کمپنی سیف ہاربر مریناز کو تقریباً۷ء۵؍ ارب ڈالر میں خریدا، جبکہ ڈی میرین کی فروخت ایک ارب یورو سے زیادہ مالیت کے سودے میں ہوئی۔ سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے کی کشش کی بڑی وجوہات بڑھتی مانگ، محدود گنجائش اور کشتیوں کی پارکنگ سے حاصل ہونے والی مسلسل آمدنی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’جولی ایل ایل بی ۴‘‘ میں اکشے کمار نہیں ہوں گے؟ ارشد وارثی مرکزی کردار میں
ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی نئی مریناز کی تعمیر کے منصوبے سامنے آرہے ہیں۔ ہانگ کانگ میں ۲۰۲۸ءکے اواخر تک سپر یاٹس کے لیے ۵۰۰؍ کشتیوں کی گنجائش والی بندرگاہ کھولنے کا منصوبہ ہے، جبکہ ابوظبی اور جاپان میں بھی ایسے منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ اس کے باوجود دنیا کی بڑی سپر یاٹس کے لیے مناسب جگہ حاصل کرنا آسان نہیں، کیونکہ ہر بندرگاہ اتنی بڑی کشتیوں کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ مجموعی طور پر، سپر یاٹس کی بڑھتی تعداد اور مریناز کی محدود گنجائش نے لگژری کشتیوں کی صنعت میں ایک نئی دوڑ شروع کردی ہے۔ اب دولت مند افراد کے لیے صرف مہنگی سپر یاٹ خریدنا ہی کافی نہیں، بلکہ اسے مطلوبہ مقام پر محفوظ طریقے سے کھڑا کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، زیادہ اخراجات اور دستیاب جگہ کے حصول کی کوشش بھی ضروری ہوگئی ہے۔