شہر میں بے زبان جانوروں کے ساتھ گزشتہ دنوں انتہائی بے دردی کا ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا تھا۔ہوا یوں کہ شہر کے ایک بڑے نالے سے ۵؍ آوارہ کتوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جس سے جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی
شہر میں بے زبان جانوروں کے ساتھ گزشتہ دنوں انتہائی بے دردی کا ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا تھا۔ہوا یوں کہ شہر کے ایک بڑے نالے سے ۵؍ آوارہ کتوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جس سے جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس معاملے میں بازار پیٹھ پولیس نے جب تحقیقات شروع کی تو جانچ میں ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے نجی نس بندی مرکز کو چلانے والے ملازمین نے ہی اس حرکت کو انجام دیا تھا۔
پولیس نے کتوں کی نس بندی مرکز چلانے والے ٹھیکیدار اور منیجر کے خلاف کیس درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ایران جنگ کے سبب نتن گڈکری کے اہل خانہ کو بھی کاروباری نقصان
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتہ کے ڈی ایم سی کی حدود میں واقع ایک نالے میں ۵؍ لاوارث کتوں کی لاشیں تیرتی ہوئی پائی گئی تھیں۔ جانوروں کے حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں نے فوری طور پر مستعدی دکھاتے ہوئے اس کی اطلاع بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن کو دی اور تحریری شکایت درج کرائی۔
پولیس نے واقعہ کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا۔ دوران تفتیش یہ ہولناک حقیقت سامنے آئی کہ یہ گھناؤنا فعل کسی عام شہری کا نہیں بلکہ خود کارپوریشن کے تحت چلنے والے نجی نس بندی مرکز کے ملازمین کا ہے۔ پولیس کے مطابق نس بندی مرکز کے ملازمین نے مبینہ طور پر ان بے زبان جانوروں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا اور جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے ان کی لاشوں کو نالے میں پھینک دیا۔ اس سنگین معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے بازار پیٹھ پولیس نے نس بندی مرکز چلانے والے نجی ٹھیکیدار امیت ساونت اور منیجر امیش راؤت کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : نیدرلینڈس مودی کے دورے کے دوران ۱۱؍ ویں صدی کے چولا خاندان کی پلیٹیں ہندوستان کو واپس کرے گا
کے ڈی ایم سی کے ڈپٹی کمشنر پرساد بورکر نے کہا کہ انتظامیہ اس واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی رپورٹ کارپوریشن کو موصول نہیں ہوئی ہے۔جیسے ہی پولیس کی حتمی رپورٹ ہمیں حاصل ہوگی۔ قصورواروں اور متعلقہ نجی ایجنسی کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔