• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

 فضائی آلودگی سےآنکھوں میں جلن اور دیگر بیماریوں کی شکایات

Updated: November 30, 2025, 10:40 AM IST | Ritika Gondhalekar | Mumbai

بڑھتی فضائی آلودگی نہ صرف سانس کے مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ آنکھ اور جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ سیفی اسپتال میں روزانہ آنکھوں کے ۳؍سے۴؍ مریض آرہے ہیں۔

Mumbai is shrouded in smog due to air pollution. Photo: PTI
ممبئی میں فضائی آلودگی کے سبب دھند چھائی ہوئی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی
ممبئی میں فضائی آلودگی کی سطح میں اچانک اور تیزی سے اضافے سے اب شہریوں کی صحت پر بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ سانس کے مریضوں کو تو پریشانی ہو ہی رہی ہے ،ساتھ ہی اب آنکھوں کی جلن جیسے بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نمائندہ نے متعدد ماہر ڈاکٹروں سےرابطہ قائم کرکے ان سے فضائی آلودگی سے ہونے والے مضر اثرات کے تعلق سے بات چیت کی جو قارئین کیلئے پیش کی جارہی ہے۔
ڈاکٹر ایل ایچ ہیرانندنی اسپتال کی پھیپھڑوں اور سانس کی ماہر ڈاکٹر سوپنل مہتا نے بتایاکہ ’’فضائی آلودگی سے متعلق مسائل کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد میں۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بچنے کیلئے یہ احتیاط برتے جاسکتے ہیں :  ٹریفک سے گزرنے کے دوران اچھی طرح سے فٹ ہونے والا ماسک پہنیں، آلودہ ہوا ہونے پر بیرونی ورزش سے گریز کریں۔ منہ سے سانس لینے کے بجائے ناک سے سانس لیں، زیادہ دیر تک آلودگی میں رہنے والے افرادچند دنوں میں بھاپ لیں، پھیپھڑوں کو قوت بخشنے والے پھل، سبزی اور  ہلدی کا استعمال کریں۔ زیادہ دیر تک آلودگی میں رہنے سے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لئے یہ احتیاط برتنا لازمی ہے۔
سیفی اسپتال میں آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر حذیفہ دھنسورہ نے بتایا کہ پہلے آنکھوں کی پریشانی کا ۳؍ دنوں میں ایک مریض آتا تھا لیکن اب روزانہ ۳؍ سے۴؍ مریض آرہے ہیں ۔ فضائی آلودگی آنکھ کی حفاظتی تہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ زیادہ تر مریض آنکھوں میں جلن، لالی اور خارش کی شکایت لے کر آرہے ہیں۔ ہم خشک آنکھوں کے سنڈروم کے مریضوں کی زیادہ تعداد بھی دیکھ رہے ہیں جہاں ایک مریض کو مسلسل آنکھوں پر پانی کے چھینٹے یا آنکھیں بند رکھنے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں، دھول اور آلودگی کی وجہ سے ہونے والا نقصان اتنا شدید ہوتا ہے کہ یہ کارنیا کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے آنکھوں کا السر بھی ہو جاتا ہے۔
آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرنے بتایاکہ آلودگی میں آنکھوں کو محفوظ رکھنے کیلئے صفر نمبر سادہ چشمہ لگائیں، ڈاکٹر کے نسخے پر جلن سے بچنے والے آنکھو کے ڈراپ کا استعمال کریں، بار بار آنکھیں دھوئیں، جلن محسوس ہونے پر بھی آنکھیں نہ رگڑیں، گھر میں ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔
اس ضمن میں کے ای ایم اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ موہن دیسائی نے بتایاکہ ’’ ہم نے اپنی او پی ڈی میں سانس لینے میں دشواری، گلے میں انفیکشن اور ناک کی نالی میں جلن کی شکایت کرنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہے لیکن بڑھتی ہوئی آلودگی کی سطح کو دیکھتے ہوئے یہ بہت زیادہ متوقع تھا اور ہم معاملات کو سنبھالنے کے لئے اچھی طرح سے تیار ہیں۔ دمہ یا سانس کے دیگر معاملات کے زیادہ مریض آنے کی صورت میں بھی ہمارے پاس آکسیجن کی وافر مقدار موجود ہے۔‘‘
ملاڈ میں رہنے والی گوری اووک نے بتایاکہ ’’میں نے پچھلے ڈیڑھ سال میں اپنے دمہ کے پمپ کا استعمال بند کر دیا تھا کیونکہ میں آیورویدک ادویات اور سانس لینے کی باقاعدہ مشقوں کی مدد سے بہتر ہو رہی تھی ۔ میں نے سردیوں میں اسے استعمال کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی لیکن ان دنوں فضائی آلودگی نے میرے جیسے مریضوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔ سانس لینا اب مشکل ہو گیا ہے۔ اب۱۵؍ دن ہوچکے ہیں کہ میں ایک بار پھر دن میں کم از کم تین بار پمپ استعمال کرنے پر مجبور ہوں۔ ‘‘
بوریولی میںرہنے والی شرشٹی جوگ نے بتایا کہ ’’میں دوپہر کی شفٹ میں کام کرتی ہوں اور بڑھتی ہوئی آلودگی اور گرمی نے مجھے چشمہ استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ میری آنکھوں میں بہت درد ہونے لگا  ہے۔ جب میں اپنے ماہر امراض چشم کے پاس گئی تو اس نے بتایا کہ میری آنکھیں دھول کے ذرات کی وجہ سے الرجی کا شکار ہیں۔ انہوںنے میری آنکھ میں دو قطرے دوا ڈالی، ایک میری آنکھوں کو صاف کرنے کیلئے اور دوسرا الرجی کا علاج کرنے کیلئے ۔ میرے لئے چشمے کا استعمال کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ میں ان کی بالکل عادی نہیں ہوں۔ اس سے سر میں درد بھی بڑھ گیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK