پوترپورٹل پربی ایم سی کے اُردواورہندی میڈیم اسکول کی خالی اسامیوں کی تفصیلات نہ ہونے سےگزشتہ ۴؍سال سے روزگار کےمنتظر اُمیدوار مایوس، تعلیم سے متعلق یونینوں نے متعلقہ محکمےکی لاپروائی کی مذمت کی۔ محکمہ تعلیم نے اگلے رائونڈ میں ان میڈیم کی اسامیوں کی تفصیلات جاری کرنےکایقین دلایا۔
بی ایم سی محکمۂ تعلیم اُردو اور ہندی میڈیم اسکولوں کی خالی اسامیوں کی تفصیلات حاصل کرنےمیں ناکام رہا۔ تصویر: آئی این این
ریاست مہاراشٹر کے ڈی ایڈ اور بی ایڈ اہل امیدواروں کی تقرری کیلئے پوتر پورٹل پر ۶؍اگست، جمعرات سے باقاعدہ اساتذہ /شکشن سیوک بھرتی کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے لیکن بی ایم سی اسکول کے اردو اور ہندی میڈیم کی خالی اسامیوں کی تفصیلات کے پوتر پورٹل پر جاری نہ کئے جانے سے ان میڈیم کے اُمیدواروں میں بڑی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ ۴؍ برسوں سے ٹیچر بھرتی کے منتظران اُمیدواروں میں مایوسی بھی ہے جبکہ محکمہ تعلیم کا کہناہے کہ ان میڈیم کی خالی اسامیوں کی تفصیلات کا کام مکمل نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ ہوا۔ ان کا کام جاری ہے، پوتر پورٹل کے اگلے راؤنڈ میں ان کی اسامیوں کی معلومات بھی جاری کی جائیں گی۔ یونینوں نے محکمہ تعلیم کی بدنظمی اور لاپروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ ریاست بھر کے سبھی میڈیم کے اسکولوں میں خالی ۳۰؍ ہزار ۲۰۹؍ اسامیوں کی بھرتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں جن اُمیدواروں نے ٹیچر اپٹیٹیوڈ اینڈ انٹیلی جنس ٹیسٹ (ٹیٹ) پاس کیا ہے، انہیں ہی اُمیدوار کے طورپر اساتذہ بھرتی کیلئے اہل قراردیاگیا ہے۔ دریں اثناء بی ایم سی اسکولوں کے اُردو اور ہندی میڈیم کی خالی اسامیوں کا پوتر پورٹل پر اندراج نہ ہونے سے ان میڈیم کے اُمیدوار ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے کریئر کے ساتھ محکمہ تعلیم نے کھلواڑ کیا ہے۔ حالانکہ محکمہ تعلیم نے پوتر پورٹل کے دوسرے رائونڈ میں ان اسامیوں کے اندراج کی یقین دہانی کرائی ہے، اس کے باوجود اُمیدوار مخمصے میں مبتلا ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: پوترپورٹل کی سست رفتاری سےاُمیدواروں کو فارم بھرنے میں دشواری
مہانگر پالیکا شکشک سبھا کے خازن عابد شیخ نے انقلاب کو بتایاکہ ’’پوترپورٹل کے ذریعے ان دنوں اپریل ۲۰۲۵ء میں ہونے والے ٹیٹ امتحان میں پاس ہونے والے اُمیدواروں کی میرٹ کی بنیاد پر تقرری کیلئے درخواست دینے کا عمل جاری ہے۔ اگست ۲۰۲۵ء میں ٹیٹ امتحان کارزلٹ جاری ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے سبھی اضلاع کے ایجوکیشن افسران کو ضلع کے اسکولوں کی خالی اسامیوں کی تفصیلات پوتر پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کیلئے ایجوکیشن افسران کو ۳؍مرتبہ مواقع دیئے گئے۔ اس کےباوجود بی ایم سی محکمۂ تعلیم اُردو اور ہندی میڈیم اسکولوں کی خالی اسامیوں کی تفصیلات حاصل کرنےمیں ناکام رہاجو انتہائی افسو سناک بات ہے۔ اب اسے کیا کہا جا ئے ؟بی ایم سی محکمہ تعلیم کی لاپروائی یا دانستہ طور پر کی جانے والی کارروائی، اس کا جواب ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ہی دے سکتا ہے۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’اُمیدواران اسامیوں کا انتظار گزشتہ ۴؍ سال سے کر رہے تھے۔ آخری ٹیٹ امتحان ۲۰۲۲ء میں ہوا تھا۔ اس ٹیٹ امتحان میں کامیاب ہونے والے اُمیدواروں کی بھرتی ۲۰۲۴ء تک جاری رہی۔ بعدازیں ۲۰۲۵ء میں پھرٹیٹ امتحان کا انعقاد کیا گیا لہٰذا گزشتہ ۴؍سال بعد ٹیٹ امتحان پاس کرنے والے اُمیدوار جن اسامیوں کے منتظر تھے، ان کی امیدوں پر بی ایم سی محکمہ تعلیم نے پانی پھیر دیا۔ انگریزی اورمراٹھی میڈیم کی اسامیوں کے ساتھ آرٹ اور موسیقی کی اسامیاں پوتر پورٹل پراپ لوڈ ہیں لیکن ہندی اور اُردو میڈیم کی اسامیاں غائب ہیں ۔ یہ اُردو اور ہندی میڈیم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ جس کی ہم میونسپل کمشنر سے شکایت کریں گے، ساتھ ہی خاطی افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ ‘‘ممبئی میونسپل اینڈپرائیویٹ اُردو ٹیچریونین نے بھی اس معاملہ میں شدید تحریری اعتراض اور تشویشن کااظہار کیاہے۔
اس ضمن میں بی ایم سی محکمہ تعلیم کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ ’’اردو، ہندی اور دیگر چند میڈیم کی خالی اسامیوں کے روسٹر کی تصدیق کا عمل نامکمل ہے۔ کوکن بھون کےمتعلقہ دفتر سے خالی اسامیوں کے روسٹرکی تصدیق کے بعد ان میڈیم کے اُمیدواروں کو پوترپورٹل کے اگلے رائونڈ میں درخواست دینے کی اجازت دی جائے گی۔ ‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’جن اُمیدواروں نے ٹی ای ٹی، سی ٹی ای ٹی اور ٹیٹ کا امتحان پاس کیا ہے اور پوترپورٹل پر رجسٹریشن کرایا ہے ان ہی اُمیدواروں کو ٹیچر بھرتی کی درخواست دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ جنہوں نے مندرجہ بالا امتحانات نہیں دیئے ہیں وہ درخواست نہیں دے سکتے ہیں ۔ ‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ اُردو اور ہندی میڈیم کی خالی اسامیوں کی تصدیق نہ ہونے سے ان میڈیم کی خالی اسامیوں کی تفصیلات پوترپورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہوسکیں جس کیلئے متعلقہ کاموں پر مامور اہلکار ذمہ دار ہیں ۔ ‘‘
بی ایم سی محکمہ تعلیم کے ایجوکیشن آفیسر (پرائمری) کرتی وردھن کرت کڈوے سے اس بارے میں استفسار کرنے کیلئے ان کے موبائل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہوسکی۔