Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگو: ایبولا سے۵۰۰؍ ہلاکتوں کی تصدیق، وبا پر قابو پانے کی کوششیں تیز

Updated: July 09, 2026, 3:01 PM IST | Agency | New Delhi

اس بیماری سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر طبی معائنے اور علاج معالجے کے اقدامات جاری ہیں۔۱۰؍ ہزار سے زائد افراد کی نگرانی کی جارہی ہے ۔

A Woman Is Being Tested In Congo.Photo;INN
کانگو میں ایک خاتون کی جانچ کی جارہی ہے۔ت
جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا کے نتیجے میں۵۰۰؍ ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ملک کے مشرقی علاقے میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر طبی معائنے اور علاج معالجے کے اقدامات جاری ہیں۔ملک میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر این اینشیا نے بتایا ہے کہ اس وبا کی حقیقی وسعت کا ابھی تک مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ تاحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق۴؍ جولائی تک ایبولا کےایک ہزار۵۶۱؍ مصدقہ مریض سامنے آ چکے تھے جن میں۵۰۶؍ افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ ۲۵۴؍ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں۱۰؍ ہزار سے زیادہ ایسے افراد کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے جو متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔
 
 
’ڈبلیو ایچ او‘ وبا پر قابو پانے کے لئے حکومتی کوششوں میں تعاون کرتے ہوئے ہر مریض کی بیماری کی مکمل تاریخ اور رابطوں کا سراغ لگا رہا ہے تاکہ وبا کے پھیلاؤ کی پوری کڑی کو سمجھا جا سکے اور ہر ممکنہ متاثرہ شخص کو بروقت دوسروں سے الگ کیا جا سکے۔ڈاکٹر اینشیا نے بتایا ہے کہ طبی مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر چکے ہیں۔ طبی عملہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود مریضوں کی خدمت میں پوری لگن سے مصروف ہے۔ ایمبولینس گاڑیوں کی کمی ہے اور وبا سے بری طرح متاثرہ صوبہ ایتوری میں درکار تمام سہولتیں فراہم کرنا فی الوقت ممکن نہیں۔ڈاکٹر اینشیا نے کہا ہے کہ اگرچہ مسائل برقرار ہیں لیکن کچھ اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ طبی معائنوں کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں دارالحکومت کشاسا میں روزانہ صرف۳۰؍ ٹیسٹ کئے جا سکتے تھے لیکن اب متاثرہ صوبوں میں قائم کردہ۱۰؍ تجربہ گاہوں کی بدولت روزانہ۲؍ ہزارسے زیادہ ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ ۲؍جولائی سے تجربہ گاہ میں دو دواؤں کی آزمائش شروع کی گئی ہے تاکہ ایبولا کی بنڈی بگیو قسم کا موثر علاج ڈھونڈا جا سکے جس کے لئے تاحال کوئی منظور شدہ دوا موجود نہیں۔ ان ادویات کو الگ الگ یا باہم ملا کر استعمال کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ بنڈی بگیو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بقا کے امکانات بہتر بنا سکتی ہیں یا نہیں۔ڈاکٹر اینشیا نے بتایا کہ صوبہ شمالی کیوو کے جو علاقے عملی طور پر مقامی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں وہاں مقامی سطح پر وبا کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK