Updated: July 09, 2026, 7:03 PM IST
| New York
فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائناا کے ہاتھوں مصر کی ۳۔۲؍ سے شکست کے بعد مقابلے کے کئی ریفری فیصلے عالمی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ مصر کے کوچ حسام حسن، متعدد کھلاڑیوں اور مصری فٹبال فیڈریشن نے بعض فیصلوں، خصوصاً وی اے آر کی مداخلت اور نامنظور کیے گئے گول پر اعتراض کرتے ہوئے فیفا سے معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان فیصلوں پر وسیع بحث جاری ہے۔
فیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۱۶؍ میں ارجنٹائناا اور مصر کے درمیان کھیلا گیا سنسنی خیز مقابلہ صرف اسکور لائن کی وجہ سے نہیں بلکہ ریفری کے متعدد فیصلوں، ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کی مداخلت اور ان کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کی وجہ سے بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مصر دو گول کی برتری حاصل کرنے کے باوجود آخرکار ۳۔۲؍ سے شکست سے دوچار ہوا، تاہم میچ ختم ہونے کے بعد اصل بحث کھیل کے معیار کے بجائے ان فیصلوں پر مرکوز رہی جنہیں مصری ٹیم اور اس کے حامیوں نے متنازع قرار دیا۔ میچ کے دوران مصر نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹائناا کو مسلسل دباؤ میں رکھا، لیکن دوسرے ہاف میں اس وقت تنازع کھڑا ہوگیا جب مصطفیٰ زیکو کا ایک گول وی اے آر جائزے کے بعد مسترد کردیا گیا۔ ریفری نے قرار دیا کہ گول ہونے سے قبل حملے کی شروعات میں فاؤل ہوا تھا، جس کے باعث اسکور تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے پر مصری کھلاڑیوں نے فوری احتجاج کیا اور میچ کے بعد بھی اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس کے بعد بھی کئی مواقع ایسے آئے جن پر مصر نے ریفری کے فیصلوں پر اعتراض کیا۔ خاص طور پر پنالٹی کی ایک اپیل پر کھیل جاری رکھنے کے فیصلے نے نئی بحث چھیڑ دی۔ مصری ٹیم کا مؤقف تھا کہ اس موقع پر کم از کم وی اے آر کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تھا، جبکہ میچ آفیشلز نے کھیل جاری رکھا۔
مصر کے کوچ کا بیان
میچ کے اختتام پر مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے اپنی پریس کانفرنس میں فیصلوں پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ جو ہوا وہ منصفانہ نہیں تھا۔ ہمیں ایک پنالٹی ملنی چاہیے تھی، ہمارا ایک گول مسترد کیا گیا اور آج تک سمجھ نہیں آیا کہ اسے کیوں نامنظور کیا گیا۔‘‘ حسام حسن نے مزید کہا، ’’میں گھر جا رہا ہوں اور ٹورنامنٹ کا مزید کوئی میچ نہیں دیکھوں گا۔‘‘ ان کا یہ بیان میچ کے بعد سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے تبصروں میں شامل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ میں نیا تنازع،فرانس اور مراکش میچ کے تمام ریفریز ارجنٹائنا سے منتخب
مصری کھلاڑیوں کا موقف
مصری کھلاڑیوں نے بھی مختلف مواقع پر ریفری کے فیصلوں پر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ بعض نے کہا کہ وی اے آر کا استعمال دونوں ٹیموں کے لیے یکساں انداز میں نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ان بیانات میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے، تاہم فیفا کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب مصری فٹبال فیڈریشن نے بھی معاملے کو باقاعدہ طور پر آگے بڑھاتے ہوئے ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر اور وی اے آر حکام کی کارکردگی کے خلاف فیفا میں احتجاج درج کرایا۔ فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ میچ کے دوران ہونے والے اہم فیصلوں، خصوصاً وی اے آر کی مداخلت اور متنازع مواقع کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
عالمی شخصیات اور سوشل میڈیا کا ردعمل
مصر کی شکست کے بعد بحث صرف قاہرہ تک محدود نہیں رہی بلکہ چند ہی گھنٹوں میں دنیا کی متعدد معروف شخصیات، سابق فٹبالرز، کوچز، کھیلوں کے مبصرین اور سیاست دانوں نے بھی میچ کے دوران ہونے والے فیصلوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ ان میں سے بیشتر نے خاص طور پر وی اے آر کے استعمال اور بعض ریفری فیصلوں پر سوالات اٹھائے، جبکہ بعض شخصیات نے انہیں غیرمنصفانہ قرار دیا۔ ان تمام تبصروں کی فیفا کی جانب سے تاحال باضابطہ توثیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
سویڈن کے سابق فٹ بالر کا بیان
سویڈن کے سابق اسٹار فٹبالر زلاٹن ابراہیمووچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’مجھے نہیں سمجھتا کہ ارجنٹائناا کو فیفا کی جانب سے ہمیشہ ترجیح کیوں ملتی ہے۔ مصر کا ایک جائز گول واضح طور پر مسترد کیا گیا، جبکہ گزشتہ ۱۲؍ ورلڈ کپ میچوں میں ارجنٹائناا کو آٹھ پنالٹیز مل چکی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دوسرے ممالک اس صورت حال کو کیوں قبول کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فیفا ۲۶ء: رونالڈو ورلڈ کپ سے باہر، مگر سوشل میڈیا کے بے تاج بادشاہ بن گئے
کوچ ہوزے مورینہو کا ردعمل
سابق ریئل میڈرڈ، چیلسی اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے کوچ ہوزے مورینہو نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ چوری ہے، یہ فٹبال پر حکمرانی کرنے والے ادارے کی بے عزتی ہے۔ ارجنٹائناا کے ایک واقعے کا وی اے آر کے ذریعے جائزہ لیا گیا لیکن مصر کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوا؟‘‘ بعد ازاں ایک اور بیان میں مورینہو نے کہا، ’’جب آپ ارجنٹائناا جیسی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہیں تو صرف میدان میں موجود گیارہ کھلاڑیوں کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ آپ سیٹی، وی اے آر روم اور پورے اسکرپٹ کے خلاف بھی کھیل رہے ہوتے ہیں۔‘‘ ان کا یہ تبصرہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔
روس کے سابق عالمی شطرنج چیمپئن گیری کاسپاروف کا سخت ردعمل
روس کے سابق عالمی شطرنج چیمپئن اور سیاسی مبصر گیری کاسپاروف نے بھی وی اے آر کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا، ’’مصر کا شاندار گول فاؤل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، لیکن چند ہی منٹ بعد ملتی جلتی صورت حال میں ارجنٹائناا کے لیے وی اے آر مداخلت نہیں ہوئی۔ فیفا ایک مرتبہ پھر بدعنوان مذاق کی طرح دکھائی دیتا ہے جو ستاروں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائناسے شکست کے باوجود مصری فٹبال ٹیم کا ہوٹل پہنچنے پر والہانہ استقبال
انگلینڈ کے سابق کپتان ایلن شیرر کا اعتراض
انگلینڈ کے سابق کپتان اور بی بی سی کے معروف مبصر ایلن شیرر نے فیصلوں میں یکسانیت نہ ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا، ’’یا تو دونوں ہی فاؤل تھے یا پھر دونوں نہیں تھے۔ ایک جیسے واقعات پر مختلف فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں۔‘‘
بی بی سی اسپورٹ کے ڈیل جانس کا موقف
بی بی سی اسپورٹ کے ریفری امور کے ماہر ڈیل جانسن نے بھی وی اے آر کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مصر کا نامنظور گول اس معیار سے مطابقت نہیں رکھتا جو پورے ٹورنامنٹ میں اختیار کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق اگر معمولی جسمانی رابطے کو پورے ٹورنامنٹ میں نظرانداز کیا جا رہا تھا تو اسی بنیاد پر گول منسوخ کرنا غیر معمولی فیصلہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: رونالڈو کو آخری الوداع: پرتگال کی شکست کے بعد الامین جمال نے رونالڈو کو دلاسہ دیا، جذباتی لمحہ وائرل
فٹبال تجزیہ کار جیرونیمو مورگنز کی رائے
فٹبال تجزیہ کار جیرونیمو مورگنز نے بھی اپنی رائے میں دعویٰ کیا کہ ارجنٹائناا کے ایک گول سے قبل مصر کے حق میں ہونے والے دو ممکنہ فاؤلز کا وی اے آر نے جائزہ نہیں لیا، جبکہ مصر کے حملے کے دوران نسبتاً معمولی واقعے پر وی اے آر کی مداخلت ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’ایک جیسے واقعات کے لیے مختلف معیار کیوں اختیار کیا گیا؟‘‘
مصر کے نوبیل انعام یافتہ سفارت کار اور سابق سربراہ محمد البرادعی کی رائے
مصر کے نوبیل انعام یافتہ سفارت کار اور سابق سربراہ محمد البرادعی نے عربی زبان میں اپنے پیغام میں لکھا کہ اس واقعے کے بعد فیفا نے ’’اپنی ساکھ اور عوامی اعتماد کا بڑا حصہ کھو دیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈکپ: مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے فلسطینیوں کے مصائب کو ’پوری دنیا کیلئے شرم کا مقام‘ قرار دیا
برطانیہ کے سابق سفیر اور سیاسی مبصر کریگ مرے کا تبصرہ
برطانیہ کے سابق سفیر اور سیاسی مبصر کریگ مرے نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے لکھا کہ یہ صرف میری رائے نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر یہ تاثر موجود ہے کہ FIFA = Fixing It For Argentina
نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان
اسی دوران نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی ایک عوامی تقریب کے دوران مصر کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’مصر کو کل لوٹ لیا گیا۔‘‘ بعد ازاں صحافیوں کے سوال پر انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر انہیں روزانہ چند اضافی منٹ ملیں تو وہ ’’مصر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے ری پلے ہی دیکھیں گے۔‘‘
معروف شخصیات کے ان بیانات کے بعد مصر اور ارجنٹائناا کے اس میچ پر ہونے والی بحث مزید شدت اختیار کر گئی اور توجہ صرف میدان میں ہونے والے کھیل تک محدود نہ رہی بلکہ ریفری، وی اے آر اور فیفا کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے۔ ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر لاکھوں صارفین نے ریفری کے فیصلوں، وی اے آر کے کردار اور فیفا کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے مختلف ہیش ٹیگز، میمز اور ویڈیوز شیئر کرنا شروع کر دیں۔ چند ہی گھنٹوں میں ’’FIFA = Fixing It For Argentina‘‘ دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے نعروں میں شامل ہوگیا، تاہم یہ ایک سوشل میڈیا مہم تھی اور فیفا نے اس الزام پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
میچ کے فوراً بعد وائرل ہونے والے متعدد ویڈیوز میں شائقین کو اسٹیڈیم اور دیگر مقامات پر احتجاج کرتے، فرضی نوٹ اچھالتے اور طنزیہ انداز میں ریفری کے فیصلوں پر تنقید کرتے دیکھا گیا۔ کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ مصر کے ساتھ ناانصافی ہوئیہے۔ میم کلچر نے بھی اس تنازع کو نئی جہت دی۔ ایک وائرل تصویر میں فیفا کے صدر جیانی انفینتینو کو ورلڈ کپ ٹرافی اٹھائے ننھے لیونل میسی کو گود میں لیے ہوئے دکھایا گیا، جسے صارفین نے طنزیہ انداز میں ’’ارجنٹائناا کا غیر سرکاری بارہواں کھلاڑی‘‘ قرار دیتے ہوئے شیئر کیا۔ ایک اور مقبول میم میں مشہور امریکی اینی میشن دی سمپسنز کے ایک منظر کو استعمال کیا گیا، جس میں مصر کو مسلسل حملے کرتے جبکہ ارجنٹائناا کو فیفا کی علامتی ’’حفاظت‘‘ میں دکھایا گیا۔
روسی نشریاتی ادارے آر ٹی سے منسوب ایک طنزیہ پوسٹ بھی بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہی، جس میں ریفری کے کردار پر طنز کیا گیا اور جیانی انفینتینو کو ارجنٹائناا کے پرچم کے ساتھ دکھایا گیا۔ اسی طرح متعدد صارفین نے ایسے فرضی قوانین پر مبنی میمز بھی شیئر کیے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر کوئی کھلاڑی ارجنٹائناا کے لیے کھیل رہا ہو تو اس کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوتی۔ یہ تمام مواد طنزیہ اور صارفین کی تخلیق کردہ پوسٹس پر مشتمل تھا، جن کی حقیقت یا درستگی کی کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔ ایک اور وائرل پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’’یہ مقابلہ ۱۱؍ بمقابلہ ۱۱؍ نہیں تھا بلکہ ۱۱؍ مصری کھلاڑیوں کے مقابلے میں ۱۱؍ ارجنٹائنای کھلاڑی، ریفری اور وی اے آر تھے۔‘‘ اس جملے کو لاکھوں مرتبہ شیئر کیا گیا اور مختلف زبانوں میں اس کے اقتباسات سامنے آئے۔
کیا فیفا نے کوئی جواب دیا؟
دوسری جانب فیفا کی جانب سے ان تمام آن لائن مہمات، میمز اور ہیش ٹیگز پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ تنظیم نے میچ کے حوالے سے بھی کوئی وضاحتی بیان نہیں دیا ہے۔
فیفا کے فنڈز کی جانچ ایف بی آئی کرے گا: رپورٹ
مصر اور ارجنٹائناا کے درمیان متنازع میچ پر ہونے والی عالمی بحث کے دوران ایک اور پیش رفت نے توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ارجنٹائناا کے اخبار لا ناسیون نے، فاکس اسپورٹس میکسیکو کے حوالے سے، رپورٹ کیا کہ امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے مبینہ طور پر امریکہ میں ارجنٹائناا فٹبال اسوسی ایشن (اے ایف اے) سے متعلق بعض مالیاتی لین دین کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں بھی یہ واضح کیا گیا کہ اس مبینہ تحقیق کا مصر ارجنٹائناا ورلڈ کپ میچ یا اس میں ہونے والے ریفری فیصلوں سے کوئی براہِ راست تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا نے مائیکل اولیس کو ملے پیلے کارڈ کے خلاف فرانس کی اپیل خارج کی
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اے ایف اے سے وابستہ بعض مالیاتی سرگرمیاں امریکی قوانین، خصوصاً منی لانڈرنگ سے متعلق ضوابط، کی زد میں آتی ہیں یا نہیں۔ بتایا گیا کہ تحقیقات کا مرکز فلوریڈا میں قائم TourProdEnter LLC نامی کمپنی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ارجنٹائنا سے باہر اے ایف اے کی متعدد مالیاتی سرگرمیوں کا انتظام کرتی رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کمپنی کے ذریعے مختلف امریکی بینکوں میں کروڑوں ڈالر کی رقوم منتقل ہوئیں، جن میں Citibank، Bank of America، JPMorgan، PNC Bank اور Synovus Bank شامل ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان میں سے بعض رقوم کی تجارتی بنیاد واضح نہیں ہو سکی۔ تاہم ان دعوؤں کی نہ تو امریکی حکام نے باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں ان کی بنیاد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسماعیل سائباری فرانس کے خلاف ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں نہیں کھیل پائیں گے
رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود ایف بی آئی نے کسی تحقیقات کی موجودگی کی سرکاری تصدیق نہیں کی، جبکہ ارجنٹائنا فٹبال اسوسی ایشن کی جانب سے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس مرحلے پر یہ معاملہ ابتدائی رپورٹس اور میڈیا دعوؤں تک محدود ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب پہلے ہی مصر اور ارجنٹائناا کے میچ میں ریفری کے فیصلوں پر دنیا بھر میں بحث جاری تھی۔ اگرچہ دونوں معاملات الگ نوعیت کے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے نے دونوں معاملات کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کیا ہے۔