Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگو میں ایبولا کی وبا کا آغاز تشخیص سے مہینوں پہلے ہوا تھا: تحقیق میں انکشاف

Updated: August 03, 2026, 6:04 PM IST | Kinshasa

تحقیق سے پتہ چلا کہ کانگو میں ایبولا کی وبا کا آغاز پتہ لگنے سے مہینوں پہلے ہوا، سائنس رپورٹ کے مطابق وائرس کا آغاز مشرقی کان کنی شہر میں جنوری میں ہواتھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جریدے سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، امکان ہے کہ اس سے پہلے کہ صحت کے حکام نے اسے باضابطہ طور پر دریافت کیا، جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا کی شروعات ملک کے مشرقی صوبے ایتوری کے ایک دوردراز کان کنی شہر میں  جنوری میں یا اس سے بھی پہلے شروع ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ محققین نے شہر مونگبوالو اور اس کے آس پاس کے تقریباً۱۰۰؍ افراد سے انٹرویو کیا، جن میں نگہداشت فراہم کرنے والے، کمیونٹی لیڈر، زندہ بچ جانے والے، متاثرین کے رشتہ دار، تابوت بنانے والے اور قبرستان کے محافظ شامل تھے۔ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ وبا جنوری میں اور شاید اس سے بھی پہلے، مونگبوالو کے نواحی علاقوں میںپھیل چکی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: سیوٹا سے تمام تارکین وطن مراکش لوٹ چکے ہیں: اسپین کے وزیر خارجہ

 ۳۰؍ جولائی کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک مریض جو علاج کی تلاش میں تھا اس وائرس کو دیہی علاقے سے شہر لے کر آیا ہو گا۔اس میں مزید کہا گیا کہ جب تک کنشاسا میں صحت کے حکام نے اس بیماری کو ایبولا کے طور پر شناخت کیا، تب تک ایک وبا پہلے سے جاری تھی۔جمعہ کو، کانگو میں ایبولا کی تازہ ترین وبا ریکارڈ شدہ انفیکشن کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی وبا بن گئی،  حکام کے مطابقمئی میں   اعلان کے بعد سے اب تک۳۵۳۰؍ سے زیادہ معاملات اور۱۵۵۶؍ اموات درج ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ ملک کی ۱۰؍ویں ایبولا وبا کے دوران درج کیے گئے تقریباً۳۴۷۰؍معاملات  سے تجاوز کر چکے ہیں۔محققین نے وسط جنوری اور۱۵؍ مئی کے درمیان۵۰۰؍ سے زیادہ مشتبہ معاملوں کی نشاندہی کی۔رپورٹ کے مطابق، ٹرانسمیشن کا ایک سلسلہ ایک۵۰؍ سالہ خاتون سے شروع ہوا جو۲۵؍ جنوری کو خون کی قے کرنے کے بعد مر گئی۔ اس کی ماں چھ دن بعد مر گئی، جبکہ اس کا شوہر بیمار ہوا لیکن صحت یاب ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین مراکش سرحدی بحران کا فائدہ اسرائیل و اسپین کی انتہا پسند جماعتوں کو ہورہا ہے: ہاویئر بارڈیم

مانوئل البیلا، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ایک ماہر وبائیات جو اس شہر میں کام کر رہے ہیں، نے محققین کو بتایا’’ اگر وبا کو مونگبوالو میں ہی روک لیا جاتا تو اسے کنٹرول کرنا بہت آسان ہوتا۔ تاہم ممکنہ ایبولا معاملات کی شناخت کے لیے، ٹیم نے ان گھرانوں کو تلاش کیا جہاں۲۱؍ دنوں کے اندر کم از کم دو افراد ایسی علامات کے ساتھ مرے جو اس بیماری سے مطابقت رکھتی ہوں۔ انہوں نے تصاویر، واٹس ایپ پیغامات، ڈاکٹروں کے نوٹس اور جنازے کی سوانح حیات کا بھی جائزہ لیا، جن میں متاثرین کی علامات بیان کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ ہر چیز ایبولا کے وسیع انفیکشن کی طرف اشارہ کر رہی تھی ۔وبا پانچ صوبوں میں پھیل چکی ہے۔ ہوٹ-یولے، ایتوری، نارتھ کیوو، ساؤتھ کیوو اور تشوپو۔ایتوری بنڈی بیوگیو وائرس اسٹرین کی وجہ سے ہونے والی اس وبا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اب تک بنڈی بیوگیوا سٹرین کے لیے کوئی ویکسین یا مخصوص علاج منظور نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK