اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سیوٹا سے تمام تارکین وطن مراکش لوٹ چکے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے شینگن ایریا کی سالمیت مکمل طور پر برقرار رکھنے کا یقین دلایااور تارکین وطن کے تعلق سے غلط معلومات پھیلانے کے خلاف متنبہ کیا۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 7:13 PM IST | Madrid
اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سیوٹا سے تمام تارکین وطن مراکش لوٹ چکے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے شینگن ایریا کی سالمیت مکمل طور پر برقرار رکھنے کا یقین دلایااور تارکین وطن کے تعلق سے غلط معلومات پھیلانے کے خلاف متنبہ کیا۔
اسپین کے وزیرِ خارجہ خوزے مانوئل الباریس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ سیوٹا میں داخل ہونے والے تقریباً تمام تارکینِ وطن مراکش واپس لوٹ چکے ہیں، اور کہا کہ ’’جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی غلط معلومات بند کرو۔‘‘ الباریس نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا، پولیس چیک پوسٹ پر شناخت کرائے بغیر سیوٹا اور میلیلا سے سرزمینِ اسپین کا سفر ممکن نہیں ہے۔ شینگن ایریا کی سالمیت مکمل طور پر یقینی بنائی گئی ہے۔ جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی غلط معلومات بندکرو۔‘‘
بعد ازاں اسپین کی نیوز ایجنسی ای ایف ای نے پہلے اطلاع دی تھی کہ جمعہ کی دوپہر سینکڑوں تارکینِ وطن مراکش واپس جانے کے لیے سرحد کی طرف بڑھ رہے تھے، جس کی وجہ اسپین اور مراکش کے درمیان واپسی کا معاہدہ اور سیوٹا میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دکانوں، سپر مارکیٹوں اور ریستورانوں کی عدم دستیابی بتائی گئی۔مزید برآں اسپین کی سول گارڈ اور فوج کے ریگولریز گروپ نمبر۵۴؍ کو تراخال ساحل کے علاقے میں تعینات کیا گیا تاکہ سمندر کے راستے مزید آمد کو روکا جا سکے۔اسپینی حکام کے مطابق، نقل مکانی کے بحران میں کم از کم ۵۷؍ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے جمعہ کو جمعرات سے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کو ’’حملہ‘‘اور ’’اسپین کی سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی‘‘قرار دیا تھا، اور جتنی جلدی ممکن ہوحالات کو معمول پر لانے کا عزم ظاہر کیا۔
واضح رہے کہ مراکش سے بحری راستوں سے اسپین میں بہتر روزگار کی تلاش میں ہر سال ہزاروں افراد ترک وطن کرکے غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ اس کوشش میں کئی تارکین وطن بحری حادثات کا شکار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ اسپین نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے سرحد پر تاروں کی باڑ اور دیوار کھڑی کی ہے،گزشتہ دنوں میں اسی جگہ پر ۵۰؍ سے زائد مراکشی تارکین وطن ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اسپین کی حکومت نے بڑے پیمانے پر ان غیر قانونی تارکین وطن کو واپس مراکش بھیجنے کی قواعد شروع کی تھی اور جس کی تکمیل کا وزیر خارجہ نے اعلان کیا۔