Updated: August 01, 2026, 4:02 PM IST
| Madrid
آسکر ایوارڈ یافتہ ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس دوبارہ شیئر کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسپین اور مراکش کے درمیان سیوٹا سرحدی بحران سے اسرائیل کی انتہا پسند حکومت اور اسپین کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان پوسٹس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس بحران سے غزہ کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ دعوے پوسٹس کے مصنفین کے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ہاویئر بارڈیم۔ تصویر: ایکس
آسکر ایوارڈ یافتہ ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس دوبارہ شیئر کی ہیں جن میں اسپین اور مراکش کے درمیان سیوٹا (Ceuta) سرحدی بحران کو اسرائیل اور اسپین کی انتہائی دائیں بازو کی سیاست سے جوڑا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں مختلف سیاسی دعوے کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بارڈیم نے صحافیوں، کارکنوں اور سماجی شخصیات کی وہ پوسٹس شیئر کیں جن میں کہا گیا کہ سرحدی بحران سے اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت اور اسپین کی انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، کیونکہ اس سے عوامی توجہ غزہ کی جنگ اور دیگر بین الاقوامی معاملات سے ہٹ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جرمن عوام کا حکومت پر اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر: سروے
بارڈیم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’نفرت، خوف اور افراتفری ہمیشہ انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’جب دنیا کی نظریں سرحدی بحران پر مرکوز ہیں تو غزہ میں جاری واقعات پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور یہی انتہا پسند حکومتوں کے مفاد میں ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق بارڈیم نے ان پوسٹس پر اپنی طرف سے کوئی اضافی تبصرہ نہیں کیا بلکہ انہیں اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر دوبارہ شیئر کیا۔ اداکار اس سے قبل بھی فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ کی جنگ پر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ دبائو بڑھانے کیلئے ایران کی خستہ حالی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں حالیہ دنوں کے دوران ہزاروں افراد نے مراکش کی جانب سے سرحد عبور کی، جس کے بعد اسپین نے اضافی فوجی اور سیکوریٹی اہلکار تعینات کیے جبکہ یورپی ممالک میں بھی سرحدی سلامتی پر نئی بحث شروع ہو گئی۔ بحران کی وجوہات پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم متعدد دعوؤں، بشمول یہ الزام کہ یہ بحران جان بوجھ کر پیدا کیا گیا یا کسی خاص بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تھا، کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بارڈیم کی جانب سے پوسٹس شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے ان کے شیئر کیے گئے دعوؤں پر سوالات اٹھائے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بارڈیم نے بعد میں ان پوسٹس کے بارے میں کوئی مزید وضاحت یا بیان جاری کیا ہو۔