• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس کا بی جےپی کی ’سی ٹیم‘ پر۱۰؍ ہزار کروڑ کی ٹیکس چوری کا الزام

Updated: September 10, 2026, 11:32 AM IST | Agency | New Delhi

پارٹی نے’’غیر تسلیم شدہ‘‘ سیاسی جماعتوں کے توسط سے ٹیکس چوری کے ’’اسکینڈل‘‘ کی جانچ کیلئے جےپی سی کی مانگ کی۔

Congress leader Shakti Singh Gohil at a press conference. Photo: INN
کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل پریس کانفرنس میں۔ تصویر: آئی این این

کانگریس نے بدھ کو مودی حکومت  سے ’’غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں ‘‘کے ذریعے ۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کے انکم ٹیکس چوری کے ’’اسکینڈل‘‘ کی جانچ کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ۳؍ہزار ۲۶۰؍’’فرضی سیاسی پارٹیوں‘‘ کے پیچھے کون سا ’’چانکیہ‘‘ اور اس مبینہ اسکینڈل کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی سرپرستی میں ملک میں کالا دھن سفید کرنے کی ایک سازش چل ر ہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جھوٹوں کی ٹولی‘‘ : پولیس پر الہ آباد ہائی کورٹ پھر برہم

اس سے قبل کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ملک کی  مذکورہ ’’رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں‘‘(آر یو پی پی) کو انکم ٹیکس سے بچنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ان پارٹیوں نے تقریباً۱۰؍ہزار کروڑ روپے کے عطیات جمع کیے ہیں۔گوہل نے کہا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعات کے تحت سیاسی جماعتوں کو عطیہ دینے پر ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہوتی ہے، جس کا مبینہ طور پر غلط فائدہ اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق۲۵ءمیں ایک این جی او کی رپورٹ سامنے آنے کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعض چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس بھی مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث ہیں اور حکومت اپنے ’’لوگوں‘‘ کو بچا رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ سیاسی فنڈنگ میں شفافیت کے لیے موجود قواعد پر مناسب عمل نہیں کیا جا رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK