۴؍ افراد کو غیرقانونی حراست میں رکھنے پر ۶۵؍ ہزار جرمانہ عائد کیا۔ گوری بازار (دیوریا) کے ایس ایچ او کی تنخواہ سے کاٹنے کا حکم دیا۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 11:28 AM IST | Inquilab News Network | Lucknow
۴؍ افراد کو غیرقانونی حراست میں رکھنے پر ۶۵؍ ہزار جرمانہ عائد کیا۔ گوری بازار (دیوریا) کے ایس ایچ او کی تنخواہ سے کاٹنے کا حکم دیا۔
الٰہ آبادہائی کورٹ نے دیوریا ضلع کےگوری بازار پولیس اسٹیشن میں ۴؍ افراد کو ۱۰؍ دن تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے میں پولیس کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ۶۵؍ ہزار روپے کا جرمانہ عائدکیا اور اسے ایس ایچ او کی تنخواہ سے کاٹنے کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی کورٹ نے مذکورہ ایس ایچ اور اس پولیس اسٹیشن کے عملہ کو ’’جھوٹوں کی ٹولی ‘‘ کہہ کر ایس ایچ او اور پولیس کپتان سے سی سی ٹی وی میں خرابی اور مذکورہ حراست کے دوران کی فوٹیج غائب ہونے پر بھی سخت سوالات کئے۔
یہ بھی پڑھئے:کتابیں مجرم نہیں بناتیں: عدالت نے کشمیری اسکالر کی نظربندی ختم کردی
سی سی ٹی وی کی رکارڈنگ غائب
بدھ کو عدالت میں ایس پی دیوریا ابھجیت آر شنکر اور گوری بازار تھانے کے ایس ایچ او پیش ہوئے تھے۔ عدالت نے تھانے کے خراب سی سی ٹی وی نظام اور فوٹیج غائب ہونے کے بارے میں ان سے وضاحت طلب کی، لیکن پولیس افسران کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی۔عدالت نے ریاستی حکومت کو ۳؍ درخواست گزاروں کو ۲۰-۲۰؍ ہزار روپے اور ایک درخواست گزار کو۵؍ ہزار روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ مجموعی۶۵؍ ہزار روپے کے معاوضہ کا حکم دیاگیا اور اسے ایس ایچ او کی تنخواہ سےکاٹنے کی ہدایت دی گئی۔
اسٹیشن ڈائری میں اندراج نہ ہونے پربرہمی
جسٹس اتل شریدھرن اور جسٹس دیویش چندر سامنت کی ۲؍ رکنی بنچ نے سماعت کے دوران پولیس افسران کی وضاحت پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ’’جھوٹوں کی ٹولی ہے ‘‘ ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ سی سی ٹی وی۱۲؍ اپریل کے بعد سے خراب تھا، لیکن تھانے کی جنرل ڈائری میں اس خرابی کا کوئی اندراج نہیں کیا گیا تھا۔ ایس پی نے بھی کہا کہ انہیں کیمرے کی خرابی کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:دہلی: ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۶ء۵۸؍ لاکھ ووٹروں کے نام غائب، منسوخی کا مطالبہ
’’کانسٹیبل بننے کےلائق بھی نہیں‘‘
ایس پی کے اظہار معذرت پر عدالت نے کہا کہ’’ہم سے نہیں عوام سے معافی مانگیں۔‘‘ جسٹس شریدھرن اس بات پر برہم تھے کہ ایک طرف پولیس دعویٰ کررہی ہے کہ ’’غیر قانونی حراست‘‘ کی میعاد میں پولیس اسٹیشن کا سی سی ٹی وی خراب تھا مگر پولیس اسٹیشن ڈائری میں اس کا اندراج نہیں ہے جو قانوناً ہونا چاہئے تھا۔ کورٹ نےکہا کہ جو ایس ایچ او جنرل ڈائری میں اندراج تک نہیں کرسکتا، وہ کانسٹیبل بننے کے بھی لائق نہیں ہے، اسے ہٹا دینا چاہیے۔‘‘ ایس پی نے بتایا کہ اسے کرائم برانچ منتقل کردیا گیا ہے، تاہم کورٹ مطمئن نہیں ہو۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ضروری ہے اور دیوریا ضلع کے تھانوں کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے ۴۶؍ لاکھ روپے سےزائد جاری کئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:آسام: زمین کے دستاویز ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ۷۳؍مکانات منہدم
یوپی پولیس کی بار بار سرزنش
یوپی پولیس عدالتوں میں مسلسل ذلیل ہو رہی ہے۔ حال ہی میں نوئیڈہ میں ملازمین کی ہڑتال کے معاملہ میں ایک طالبہ کی این ایس اے کے تحت گرفتاری پرپولیس اور نوکرشاہی ۵؍ لاکھ کا جرمانہ تنخواہوں سے کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں ضلع مجسٹریٹ میدھاروپم کورٹ کی برہمی کا شکار ہوئیں۔