حکومت کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا، اس کوملک کی خارجہ پالیسی کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ہندوستان کی توہین کاسلسلہ تھم نہیں رہاہے،وزیر اعظم مودی نے کئی پروگرام کرکے ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب وہ ہندوستان کی توہین کر رہے ہیں۔
سپریہ شرینیت پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این
کانگریس نے منگل کو ہندوستان کے بارے میں امریکی حکومت کی سفری ایڈوائزری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ کو امریکی حکومت کے ساتھ اٹھائے۔ پارٹی نےاس کو انتہائی سنگین پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس پر حکومت ہند کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا۔ پارٹی نے کہا کہ اس کے ملک کے لئے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں۔ منگل کو یہاں کانگریس کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی ترجمان اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی چیئرپرسن سپریہ شرینیت نے کہا کہ یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لئے ایسی کوئی ایڈوائزری نہیں جاری کی گئی جو دہشت گردوں کی حفاظت کرتاہے لیکن ہندوستان کے بارے میں امریکہ نےیہ ایڈوائزری جاری کی جو دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت اور گاندھی کی سرزمین ہے۔ انہوں نےکہاکہ یہ مودی حکومت کی ایک اور سفارتی ناکامی ہے کہ وہی ملک جس کو مودی نے ہاؤڈی مودی، نمستے ٹرمپ اور اب کی بار ٹرمپ سرکار جیسے شوز منعقد کرکے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی تھی، وہی ٹرمپ بار بار ہندوستان کی توہین کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں پر بھی طنز کیا جنہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے لئے خصوصی ہون کیا تھا۔
امریکی ایڈوائزری کی سخت مذمت کرتے ہوئے سپریہ شرینیت نے حکومت ہند سے ملک کو درپیش بعض سنگین مسائل اور بالخصوص خواتین کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق مسائل کا نوٹس لے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہرگھنٹے میں خواتین کے خلاف۴۵؍جرائم رپورٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ دیا جہاں خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم بالخصوص عصمت دری کے مجرموں کو بی جے پی لیڈروں اور حکومتوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ خارجہ پالیسی کی سنگین ناکامی ہے، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ہندوستان کی توہین کاسلسلہ تھم نہیں رہاہے۔ ٹریول ایڈوائزری کے علاوہ ٹرمپ بار بار پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں ثالثی کا دعویٰ کر رہےہیں ، ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہندوستانیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر انتہائی غیرانسانی حالات میں ملک بدر کر رہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو کبھی ایسا دھچکا نہیں لگا۔
سپریہ شرینیت نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے ۱۱؍سالہ دور اقتدار میں اب تک کا سب سے زیادہ وقت بیرونی ممالک کے دورے کرنے اور غیر ملکی لیڈروں کو خوش کرنے میں صرف کیا ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر کاامریکہ میں سرخ قالین پر استقبال کیا جاتا ہے تو ہندوستان کے خلاف سفری ایڈوائزری جاری کی جاتی ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس سے نہ صرف عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ اور وقار پر برا اثر پڑے گا بلکہ ملک میں سیاحت اور سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ملک میں ہر ایک کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ کانگریس کی ترجمان نے ٹرمپ کے ذریعہ وزیراعظم مودی اورعاصم منیر کا نام ایک ساتھ لئے جانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس کو ناقابل قبول قراردیا۔