Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘

Updated: August 29, 2026, 1:23 PM IST | Agency | Washington

سابق امریکی سفیر برائے ترکی فرانسس جے ریکارڈون کا دعویٰ، ان کے مطابق اسرائیل میں اردگان مخالف اشتہار بھی لگائے گئے ہیں۔

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu wants to capitalize on the October elections. Picture: INN
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یا ہو اکتوبر کےانتخابات میں فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

سابق امریکی سفیر برائے ترکی فرانسس جے ریکارڈون نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں خصوصاً یہ نظریہ اکتوبر میں ہونے والے   انتخابات میں انہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ عرب میڈیا کے ایک نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسس ریکارڈون نے کہا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر لگائے گئے ایک بڑے انتخابی اشتہار میں ترک صدر رجب طیب اردگان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اشتہار پر درج ہے کہ اردگان  نیتن یاہو کو ہرانا چاہتے ہیں، انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: یہودی لابی نے وسط مدتی انتخاب پر ریکارڈ رقم خرچ کی، مخالفت میں بھی اضافہ

دوسری جانب مذکورہ بینرز  سے متعلق بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اشتہار کے چند روز بعد ہی ترکی اسرائیل کی نئی فوجی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے۔اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام میں ابو الظاہر ایئر بیس پر حملہ کیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد وہاں ترکی کی جانب سے مبینہ طور پر بڑھائی جانے والی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانا تھا۔واضح ہو کہ اسرائیلی انتخابات میں ۲؍ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باعث نیتن یاہو کی انتخابی مہم اور حملے کے وقت نے اسرائیل اور بیرونِ ملک یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ اسرائیل نے حقیقی خطرے کے خلاف پیشگی کارروائی کی یا انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لئے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کئی دہائیوں سے خود کو اسرائیل کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور ماضی میں بھی مختلف بحرانوں کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: انقرہ اسلامی دنیا میں اتحاد مضبوط اور اختلافات کم کرنے کیلئے کوشاں ہے: اردگان

ترکی، امریکہ اور نیتن یاہو کے بعض اسرائیلی سیاسی مخالفین نے بھی حملے کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ادھر ترکی نے بھی اسرائیلی موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نتن یاہو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیاں اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کی حکومت  کا کہنا ہے کہ وہ شام میں امن، استحکام اور خوش حالی کے قیام کے لئے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK