کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ نام کی تبدیلی کے باوجود کنیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 1:26 PM IST | Agency | Washington
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ نام کی تبدیلی کے باوجود کنیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کنیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کے لئے ایک ایگزیکٹیو آرڈ رپر دستخط کئے ہیں۔ ٹرمپ نے آرڈر پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ’’ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس آرڈر پر دستخط کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے ہیں لیکن وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: رکشا بندھن پر خواتین کو مفت سفر کا اثر، بس اڈوں پرہجوم
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کنیڈا سے جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ دکھایا تھا۔ اسی دوران کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ’لیک امریکہ‘ رکھے جانے کے باوجود کنیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے لیکن کنیڈا کے باشندے جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے-تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امراوتی : قبائلی طلبہ کا وزیر برائے قبائلی ترقی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔کارنی کے مطابق ’لیک اونٹاریو‘ کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ’اونٹاریو‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ’جھیل خوبصورت ہے‘ اور’جھیل بڑی ہے‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام۴۰۰؍ سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل اور امریکہ اور کنیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کنیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔