کانگریس کا الزام، بنگال کی فتح کو اسی کا نتیجہ قراردیا، دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بھی ہر اسمبلی حلقہ میں ۵؍ سے ۱۰؍ ہزار نام کاٹنے کی سازش ہے۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 11:20 AM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi
کانگریس کا الزام، بنگال کی فتح کو اسی کا نتیجہ قراردیا، دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بھی ہر اسمبلی حلقہ میں ۵؍ سے ۱۰؍ ہزار نام کاٹنے کی سازش ہے۔
کانگریس نے اتوار کو پھر الیکشن کمیشن پر بی جےپی کی اکائی کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایس آئی آر کو انتخابی فہرست کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ ’’ اکثریت جٹانے کیلئے مودی اور شاہ کی سازش‘‘ قرار دیا۔ بنگال میں بی جےپی کی جیت کو ایس آئی آر کا نتیجہ قرار دیتےہوئے کانگریس نے کرناٹک میں اس سازش کو کامیاب نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ بی جے پی کرناٹک کےہر اسمبلی حلقے میں ۵؍ سے ۱۰؍ ہزار ووٹرس کے نام کٹوانا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: کاغذ پر فعال اندور کا ایک اسپتال جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں
جے رام رمیش نے زور دیکر کہا کہ کوئی بھی ایس آئی آر کا مخالف نہیں ہے، مخالفت جس طرح الیکشن کمیشن اس پورے عمل کومتاثر کررہاہے، اس کی ہورہی ہے۔ کرناٹک میں جاری ایس آئی آر کے حوالے سے جے رام رمیش نے کہا کہ پارٹی یہاں کوئی کھیل نہیں کھیلنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بہار اور مغربی بنگال میں جو کچھ کیا اور اس سے بی جے پی کو جوفائدہ ہوا، اس کو کرناٹک میں نہیں دوہرانے دیا جائےگا۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک کے ہی دوحلقوں کے بارے میں پریس کانفرنس کرکے یہ انکشاف کیاتھا کہ انتخابات سے قبل خصوصی سافٹ وئیر کا استعمال کرکے بی جے پی مخالفین کے ووٹوں کو حذف کرکے اپنے لوگوں کا نام شامل کرتی ہے۔ انہوں نے اس کیلئے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا بھی انکشاف کیاتھا۔ راہل گاندھی کے مذکورہ الزامات کا کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیاگیا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نےکہا کہ ’’بی جے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اسمبلی حلقہ میں ۵؍سے ۱۰؍ہزار ووٹوں کو حذف کیا جائے، لیکن ہم چوکنا ہیں۔ ہمارے پاس کرناٹک میں انتخابات تک دو سال باقی ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں کہ ہماری تنظیمیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئےسبھی اقدامات کریں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ بی جےپی نے بنگال کا الیکشن صرف اسلئے جیتا کہ ایس آئی آر میں ٹی ایم سی کے لاکھوں ووٹرس کے نام کاٹ دیئے گئے تھے۔