Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناندیڑ: ایس آئی آر سے متعلق عوامی بیداری و رہنمائی کیلئے مہم

Updated: July 06, 2026, 12:01 PM IST | Z.A Khan | Nanded

اے آئی ایم آئی ایم نے خصوصی رکشا مہم کا آغاز کیا، کانگریس پارٹی کی جانب سے شہر بھر میں ہیلپ سینٹر بنائے گئے۔

AIMIM leaders with Raksha. Photo: INN
ایم آئی ایم لیڈران رکشا کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

خصوصی ووٹر فہرست نظرثانی(ایس آئی آر) مہم کے تعلق سے شہریوں میں بیداری پیدا کرنے اور رہنمائی فراہم کرنےکیلئے سیاسی پارٹیاں بھی سرگرم ہیں۔ 
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) کی جانب سے اتوار کو ایک خصوصی رکشا بیداری مہم کا آغاز کیا گیا۔ اس مہم کے تحت ایس آئی آر سے متعلق معلوماتی فلیکس آویزاں رکشے شہر کے مختلف علاقوں اور گلی کوچوں میں گھوم کر شہریوں کو ووٹر فہرست کی نظرثانی کے عمل، اس کی اہمیت اور ضروری کارروائی سے آگاہ کریں گے۔ 
اس بیداری مہم کا افتتاح اے آئی ایم آئی ایم کے لیڈران سید معین، فیروز خان لالہ، گروپ لیڈر سید مجیب اور میونسپل قائدِ حزبِ اختلاف مسعود احمد خان کی موجودگی میں انجام پایا۔ اس موقع پر پارٹی کے کارپوریٹرز، عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر ایم آئی ایم لیڈران نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ’ایس آئی آر مہم‘ میں بھرپور حصہ لیں، مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ اپنی معلومات بروقت جمع کرائیں اور مقررہ مدت کے اندر اندراج و تصدیق کا عمل مکمل کرکے اپنے حقِ رائے دہی کو محفوظ بنائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’گیس سلنڈر کی قیمت ۲؍ ہزار تک پہنچ سکتی تھی لیکن ہم نے۹۵۰؍ میں دستیاب کرایا ‘‘

وہیں دوسری طرف اس سلسلے میں شہر کانگریس کے صدر عبدالغفار نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس آئی آر فارم پوری احتیاط اور درست معلومات کے ساتھ پُر کریں اور کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں پارٹی کی جانب سے قائم کردہ ہیلپ سینٹروں سے رہنمائی حاصل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹر میپنگ مہم کے آغاز ہی سے شہر کے مختلف وارڈوں میں عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ سینٹر قائم کیے گئے تھے، جو اب بھی مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان مراکز پر شہریوں کو فارم بھرنے، مطلوبہ دستاویزات کی جانچ اور دیگر ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ عبدالغفار نے بوتھ لیول آفیسرز سے بھی اپیل کی کہ وہ صرف ایک ہی مقام پر بیٹھ کر فرائض انجام دینے کے بجائے اپنے اپنے علاقوں کی مساجد، کمیونٹی ہالز یا دیگر عوامی مقامات پر موجود رہیں تاکہ شہریوں  کو آسانی ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK