• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج سے ۲۶؍ نومبر تک الیکشن کمیشن کی دھاندلیوں کے خلاف کانگریس کا غیر معمولی پلان

Updated: October 06, 2026, 12:10 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

کانگریس کی ریاستی اکائیوں کے صدور (پی سی سی چیفس) کے ساتھ طویل میٹنگ کے بعد، جس میں کانگریس کے اعلیٰ لیڈران بالخصوص راہل گاندھی اور صدرِ کانگریس ملکارجن کھرگے شریک تھے، تقریباً پونے دو ماہ کے غیر معمولی منصوبے کا اعلان کیا گیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کانگریس کی ریاستی اکائیوں کے صدور (پی سی سی چیفس) کے ساتھ طویل میٹنگ کے بعد، جس میں کانگریس کے اعلیٰ لیڈران بالخصوص راہل گاندھی اور صدرِ کانگریس ملکارجن کھرگے شریک تھے، تقریباً پونے دو ماہ کے غیر معمولی منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈر اور اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے صحافیوں کو بتایا کہ آج (منگل کو) کانگریس اور انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کے مکر دُوار سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کریں گے۔ اس کیلئے اُن اپوزیشن پارٹیوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے جو انڈیا اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ کے سی وینو گوپال نے اُمید ظاہر کی ہے کہ دہلی پولیس اس مارچ کو روکنے کی کوشش نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:’’بنگال میں۹۰؍ لاکھ نام حذف ہوگئے مگرسپریم کورٹ نے روک لگانے کی ضرورت نہیں محسوس کی‘‘

کانگریس کے منصوبے کے مطابق کل سے ۸؍ اکتوبر تک انڈیا اتحاد کی تمام پارٹیاں ملک بھر میں ووٹ چوری کے موضوع پر ڈسکشن، نشستوں اور یاتراؤں کا اہتمام کریں گی۔ اس کے بعد ۱۰؍ اکتوبر سے ۲۰؍ اکتوبر تک بلاک لیول پر کانگریس کی نشستیں ہوں گی۔ اسی طرح ۲۵؍ اکتوبر سے ۲۵؍ نومبر تک ووٹ بچاؤ چوپالیں گاؤں گاؤں میں منعقد کی جائیں گی۔ کے سی وینوگوپال اور بعد میں جے رام رمیش نے کہا کہ ملک بھر سے ساڑھے ۱۳؍ کروڑ نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے گئے ہیں۔ ابھی تک سب کے سامنے ساڑھے ۱۳؍ کروڑ کا صرف عدد ہے، کوئی نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں جو اپنے جمہوری حق سے محروم کردیئے گئے۔ کانگریس کی کوشش ہوگی کہ ان  ساڑھے تیرہ کروڑناموں کو چہرا دیا جائےیعنی ان کی شناخت واضح ہو کہ یہ کون سے رائے دہندگان ہیں جنہیں ووٹنگ کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ بات ان ووٹروں کی شناخت تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ کانگریس رضاکار اُن کے نام انتخابی فہرستوں میں دوبارہ شامل کروانے کی جدوجہد کریں  گے۔

یہ بھی پڑھئے:آج چار ریاستوں میں ضمنی انتخابات، ساری نگاہیں مغربی بنگال پر

اعلان کے مطابق، ایک نومبر کو رام لیلا میدان پر انڈیا اتحاد کی مہا ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس کے بعد ۲۵؍ اور  ۲۶؍ نومبر کو۶؍ الگ الگ ریاستوں سے ’’دہلی چلو یاترا‘‘ نکلے گی جن کے شرکاء دہلی میں یکجا ہوں گے۔ اس یاترا کا نعرہ ہوگا ’’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ، سی ای سی ہٹاؤ۔‘‘

صحافیوں سے گفتگو کے دوران جے رام رمیش نے کہا کہ اس تعلق سے الگ الگ پروگراموں کی مزیدتفصیل آئندہ جاری کی جائے گی۔ 

کانگریس کا احتجاج پروگرام، ایک نظر میں

آج الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ

۸؍ اکتوبر تک انڈیا اتحاد کی نشستیں، یاترائیں

۱۰؍ اکتوبر تا ۲۰؍ اکتوبر بلاک لیول میٹنگیں

۲۵؍ اکتوبر تا ۲۵؍ نومبر گاؤں گاؤں میں چوپالیں

یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ’’انڈیا‘‘ کی مہا رَیلی

۲۵؍ اور ۲۶؍ نومبر کو دہلی چلو نام کی ۶؍ یاترائیں

۵ء۱۳؍کروڑ نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے گئے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK