Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں سکھ بھائیوں کی عطیہ کردہ زمین پرمدینہ مسجد کی تعمیرمکمل

Updated: December 08, 2025, 1:48 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

عمرپورہ میںخوشی کی لہر،بھائی چارہ کی نئی تاریخ مرتب ، زمین دینے والے سابق سرپنچ سُکھ جندر سنگھ نے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کیا، کہا: میرا گھر مسجد کے قریب ہے، پانچوں وقت نماز کی ادائیگی کے مناظر دیکھ کر سکون ملے گا

Sikh brothers also participated in the inauguration of Medina Mosque in Omar village of Malir Kotla. Picture: INN
مالیر کوٹلہ کے عمر گاؤں میں مدینہ مسجد کے افتتاح میںسکھ برادران بھی شریک رہے۔ تصویر:آئی این این
پنجاب میں انسانیت نوازی اور بھائی چارے کی مثال قائم کرتے ہوئے سکھ بھائیوں کے ذریعے  مالیر کوٹلہ ضلع کے عمرپورہ گاؤں  میں مسجد کیلئے دی گئی زمین پر  مدینہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے جس کا ۷؍ دسمبر کو اس کا  افتتاح عمل میں آیا۔اس موقع پر پنجاب کے شاہی امام  مولانا  محمد عثمان لدھیانوی  اور اور مسجد کیلئے زمین عطیہ کرنےوالے سکھ جندر سنگھبطور خاص موجود تھے۔ عمر پورہ گاؤں  جہاں   کے مسلمانوں  کومسجدنہ ہونے کی وجہ سے  نماز کیلئے پڑوس کے گاؤں میں جانا پڑتا تھا، میں مسجد کے افتتاح پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مسلمان خوش ہیں کہ ان کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا اور اب نماز کیلئے انہیں دوسرے گاؤں نہیں جانا پڑے گا۔
  یادر ہے کہ عمر پور گاؤں(تحصیل روہیرہ) میںمسلمانوں کیلئے مسجد نہ ہونے پرگاؤں کے سکھ بھائیوں نےمسجد کی تعمیر کے لئے ۶؍ ایکڑ زمین اور ۵؍لاکھ روپے کا عطیہ  دیاتھا۔ (اس کی تفصیلی خبر ۱۵؍ جنوری کے انقلاب میں شائع ہوچکی ہے۔) مسجد کا سنگِ بنیاد ۱۲؍جنوری کو  رکھا گیاتھا جس میں پنجاب کے شاہی امام  مولاناعثمان رحمانی لدھیانوی بھی شریک تھے۔انہوں نے  بتایاکہ ’’ اس گاؤں میں مسلمانوں کے کئی گھر ہیں مگراتفاق سے کوئی مسجد نہیںتھی ،مسلمان دوسرے گاؤں میں نماز ادا کرنے    جاتے تھے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سکھ بھائیوں نے اپنی جانب سے پہل کی۔ ‘‘ 
مسجد جس کا نام مدینہ مسجد رکھا گیا ہے، کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اتوار ۷؍ دسمبر۲۰۲۵ء کو  افتتاحی تقریب منعقد کی گئی اور  مسجد میں باضابطہ نماز کا آغاز ہوا۔تقریب میں گاؤں کے ذمہ دار اشخاص، سکھ بھائی، پنجاب کے شاہی امام مولانا مولانا محمد عثمان لدھیانوی اور مقامی علماء قاری فرقان حقانی، قاری عرفان، قاری راشد (پٹھان پورہ)، قاری محمد سلمان ، قاری محمد یعقوب، قاری محمد صادق یزدانی ، تعمیر مسجد کے نگراں اور  مقامی جمعیۃ کے ذمہ دار قاری فرقان احمد وغیرہ موجودتھے۔ 
یہ منظر دل کو چھو لینے والا تھا جب ملک کے موجودہ نفرت  کے ماحول میں سکھ بھائیوں نے اپنے مسلم بھائیوں سے غایت درجہ یگانگت کا اظہار کیا اور اپنی زمین دینے سے لے کر مسجد کی تعمیر تک   عملا ً شریک رہے۔مسجد میں نماز کا آغاز اتوار کو  عصر کی نماز سے  ہوا ۔   شاہی امام مولانا محمد عثمان لدھیانوی   نے نماز کی امامت کی۔اس موقع پر انہوں نے خطاب بھی کیا اورکہا کہ اس وقت ملک کے کیا حالات ہیں اور کس طرح اختلافات اور نفرت کو ہوا دی جارہی ہے وہیں پنجاب پیار ومحبت ، امن وبھائی چارہ کی نئی تاریخ مرتب کررہا ہے۔
مسجد کی زمین عطیہ کرنے سے لے کر تعمیر اور افتتاح تک ، یہ بھی اسی کا ایک سنہرا ورق ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ پنجاب میں نفرت پر محبت حاوی ہے ۔  پنجاب کے  ہمارے وطنی بھائیوں نے بار بار عملاً یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے درمیان نفرت کی کوئی جگہ نہیں ، ہم ایک ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنا اہل پنجاب کی شناخت ہے۔ دنیا نے اس کی ایک شاندار مثال پنجاب میں سیلاب کے وقت بھی دیکھی تھی۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ مسجد کو آباد کریں اور نمازوں کی پابندی کریں۔
مالیر کوٹلہ جمعیۃ کے صدر مفتی مرغوب الرحمن نے بھی حاضرین کو مسجد کے آباد کرنے کی فکر دلاتے ہوئے کہا کہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ کے گھر کو سجدوں سے آباد کریں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ذہن نشین رکھئے کہ  اب کوئی عذر  قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ اللہ پاک نے اپنے گھر کی تعمیر مکمل فرمادی ہے۔ اس لئے ہم سب مسجد کی آبادی کی فکر کریں، اس سے مسجد کا حق ادا ہوگا اور ہمارے مسائل بھی حل ہوں گے۔
مسجد کے افتتاح کے لئے منعقدہ تقریب میں مسجد انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے اہم شخصیات گرام پنچایت کے سابق سرپنچ اور زمین عطیہ کرنے والے سکھ جیندر سنگھ نونی، کنول سنگھ دھالی وال، گرجوت سنگھ تیڈسا، تیجا سرپت، رویندر سنگھ گروال، تیجی سرپنچ، سلیم محمد ، چرن جیت سنگھ، راجگیندر سنگھ ، سیف علی ، دلشاد ، حاجی شمشاد (رکن مائناریٹی کمیشن)، صوفی محمد ہاشم بگا (رکن بھلائی بورڈ) اور  نثار احمد وغیرہ صاحبان کے خصوصی تعاون پر ان کی پزیرائی کی گئی۔نظامت کے فرائض قاری محمد عرفان حقانی نے انجام دیئے ، صدارت قاری محمد فاروق نے کی اور  شاہی امام کی دعا پر تقریب اختتام کو پہنچی۔ اس موقع پر حاضرین کے لئے ضیافت کا نظم کیا گیا تھا۔
’’میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں‘‘
زمین عطیہ کرنے والے سابق سرپنچ سکھ جیندر سنگھ نونی نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ آج میں نے جب تمام لوگوں کو اس مسجد میں عبادت کرتے دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی، وہاں بہت سکون ملا۔ سبھی لوگ اکٹھا ہوئے، محبت کا اظہار کیا اور خدا کے گھر میں ماتھا ٹیکا۔‘‘انہوں نے مزیدکہا ’’ میں تو صرف ذریعہ بنا باقی یہ کام تو خدا نے لیا ہے، وہ جو چاہتا ، جس سے چاہتا ہے، کرالیتا ہے۔ ہمارا پریوار ان معنوں میں خوش نصیب ہے۔ ‘‘سابق سرپنچ سکھ جیندر سنگھ نونی نے مزید کہا کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہی ہے، میں پانچ وقت نماز کی ادائیگی کے مناظر دیکھوں گا، اذان سنوں گا، مجھے کافی دلی سکون ملے گا۔ اخیر میں انہوں نے زور دے کر کہا ہمارے پنجاب میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں، یہاں سبھی دھرم کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK