Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھاڑی کے ایک جانب حفاظتی دیوار کی تعمیر سے سیلاب کا خطرہ

Updated: June 15, 2026, 6:58 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

بارش میں کئی علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ،میونسپل کمشنر سے فوری اقدامات کی اپیل ۔

Protective Wall Constructed In The Western Part Of Kalyan Creek.Photo:INN
کلیان کھاڑی کے مغربی حصہ میں تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار-تصویر:آئی این این
ہر سال برسات میں کلیان کھاڑی کا پانی قریبی بستیوں میں داخل ہو کر ہزاروں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے مگر اس بار صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کھاڑی کے مغربی کنارے پر سیلابی پانی کی روک تھام کیلئے تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار کے باعث اب پانی کا دباؤ دوسرے کنارے کی بستی کی جانب منتقل ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں ایک سماجی کارکن نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) انتظامیہ کو مکتوب روانہ کرکے فوری مداخلت اور مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
عیاں رہے کہ ہر سال برسات میں کلیان کھاڑی کے کنارے واقع ریتی بندر، دارالفلاح مسجد، قافلہ،گووند واڑی سمیت متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں خاندانوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے جس سے انہیں زبردست پریشانی اٹھانی پڑتی ہیں۔امسال کھاڑی کے مغربی حصہ کون گاؤں میں کھاڑی کے کنارے حفاظتی دیوار کی تعمیر کی جارہی ہے اس کا اثر گووند واڑی اور ریتی بندر کے علاقوں پر پڑنے کا قوی امکان ہے۔
 
 
 
ماہرین اور مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ برسات کے دوران اس حفاظتی دیوار کے سبب پانی کا بہاؤ مخالف سمت کے علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے جس سے سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ سماجی کارکن عقیل انصاری نے میونسپل انتظامیہ کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ گووند واڑی،ریتی بندر،دارالفلاح مسجد اور مولوی کمپاؤنڈ کے اطراف  رہنے والوں کو درپیش اس خطرے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ متعلقہ علاقوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور شہریوں کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچانے کیلئے فی الفور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK