Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا: آر ایس ایس تقریب میں تین وائس چانسلروں کی شرکت پر سیاسی ہنگامہ

Updated: June 15, 2026, 8:07 PM IST | Thiruvananthapuram

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے خطاب پر مشتمل تقریب میں کیرالا کی تین سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی شرکت نے ریاست میں شدید سیاسی تنازع پیدا کر دیا ہے۔ کانگریس، سی پی آئی (ایم) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں آر ایس ایس کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیتے ہوئے وائس چانسلروں سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کیرالا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو لے کر ایک نیا سیاسی تنازع پیدا ہوگیا جب تین سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کی، جس سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے خطاب کیا تھا۔ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں کیرالا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر موہنن کنومل، مہاتما گاندھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ماووتھو ڈی اور ملیالم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سی آر پرساد شامل تھے۔ ان کی موجودگی نے ریاست کی سیاسی جماعتوں اور تعلیمی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کیرالا کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلروں کی شرکت ’’سنگین تشویش‘‘ کا باعث ہے اور یہ ریاست کی تعلیمی روایات اور یونیورسٹی عہدوں کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ’’کیرالا کا معاشرہ وائس چانسلر کے عہدے کو بہت زیادہ احترام دیتا ہے۔ ایک ایسے پروگرام میں شرکت کرکے جس کی قیادت ایک ایسی تنظیم کے سربراہ نے کی جو فرقہ وارانہ نظریات کی نمائندگی کرتی ہے، انہوں نے اس عہدے کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ ستھیسن نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ تینوں وائس چانسلر کیرالا کے عوام سے معافی مانگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کوئی بھی ایسا عمل جو فرقہ واریت کو فروغ دیتا ہو، قابل قبول نہیں ہو سکتا، چاہے اسے کوئی بھی انجام دے۔‘‘ کیرالا کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے بھی وائس چانسلروں کی شرکت کو ’’سنگین اور ناقابل معافی غلطی‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ریاست میں تعلیمی اداروں کو ’’زعفرانی رنگ‘‘ دینے کی مبینہ کوششوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت بے روزگاری کا حل نہیں نکال پا رہی، اسلئے ہم روزگار میلہ کررہے

چنیتھلا نے الزام لگایا کہ اس طرح کے اقدامات یونیورسٹیوں کے سیکولر اور غیر جانبدار کردار کو کمزور کرتے ہیں اور تعلیمی اداروں کو آزاد فکری مباحث کے مراکز کے بجائے سیاسی اور نظریاتی کشمکش کا میدان بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’تینوں وائس چانسلروں نے کیرالا کے معاشرے اور تعلیمی برادری کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہیں اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے اور آئندہ ایسی تقریبات سے دور رہنا چاہیے۔‘‘ ادھر اپوزیشن لیڈر پنارائی وجین نے اس معاملے کو سنگھ پریوار کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی یونیورسٹیوں میں آر ایس ایس کی مداخلت کی کوششیں اس وقت تیز ہوئیں جب عارف محمد خان نے ۲۰۱۹ء میں گورنر کا عہدہ سنبھالا۔

وجین نے کہا کہ سابق لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) حکومتوں نے یونیورسٹیوں کے ’’زعفرانی رنگ‘‘ کو روکنے کے لیے قانون سازی تک کی تھی، جبکہ انہوں نے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) پر ان اقدامات کی مخالفت کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح آر ایس ایس اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری ایم وی گووندن نے بھی وائس چانسلروں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تعلیمی سربراہوں کے بجائے ’’آر ایس ایس کے منتظمین‘‘ کی طرح رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا صرف معافی مانگ لینے سے معاملہ ختم ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: دہرادون: پانی کے تنازع میں ہندو نوجوان کے قتل کے بعدفرقہ وارانہ کشیدگی

دوسری جانب بی جے پی نے اس پورے تنازع کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے وائس چانسلروں کا دفاع کیا ہے۔ کیرالا بی جے پی کے صدر راجیو چندر شیکھر نے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں دوسروں کو سیکولرازم کا درس دینے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔ چندر شیکھر نے کہا کہ موہن بھاگوت کے خطاب پر مشتمل ایک عوامی تقریب میں شرکت کرنا کوئی جرم نہیں ہے اور کسی بھی وائس چانسلر کو ایسے پروگرام میں شرکت پر ہدف بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کانگریس اور سی پی آئی (ایم) دونوں پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں بی جے پی اور آر ایس ایس کو خوف کی علامت بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

آر ایس ایس کی تقریب کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیرالا کے لوگ اپنی قوم پرستی کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ایسے لیڈروں کی حمایت جاری رکھیں گے جو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تنازعے نے ایک بار پھر کیرالا میں تعلیم، سیاست اور نظریاتی اثر و رسوخ کے درمیان تعلقات پر بحث کو تیز کر دیا ہے، جبکہ وائس چانسلروں کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK