Updated: August 09, 2026, 6:08 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نےای ۲۰؍ پیٹرول کے معیار سے متعلق سامنے آنے والی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین بلا خوف و خطر اس ایندھن کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ای ۲۰؍ پیٹرول مقررہ معیار کے مطابق ہے۔
ای ۲۰؍پیٹرول۔ تصویر:آئی این این
مرکزی حکومت نےای ۲۰؍ پیٹرول کے معیار سے متعلق سامنے آنے والی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین بلا خوف و خطر اس ایندھن کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (OMCs) کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ای ۲۰؍ پیٹرول مقررہ معیار کے مطابق ہے اور اس کے معیار کی نگرانی کے لیے مضبوط کوالٹی کنٹرول نظام نافذ ہے۔
وزارت نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ میڈیا رپورٹس میں ای ۲۰؍ پیٹرول میں نمی اور کلورائیڈ کی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس کے بعد تیل کمپنیوں نے ملک بھر میں ای ۲۰؍پیٹرول کی سپلائی چین میں اضافی اور وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ مہم شروع کی۔
یہ بھی پڑھئے:راکنگ اسٹار یش کی فلم’’ٹاکسک‘‘ کا ٹریلر جاری
ٹیسٹنگ میں آلودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا
حکومت کے مطابق ان ٹیسٹوں کے نتائج سے واضح ہوا کہ ایندھن کا معیار مقررہ حد سے کافی بہتر سطح پر ہے۔ وزارت نے کہا کہ سائنسی طریقوں سے کیے گئے وسیع اور بے ترتیب ٹیسٹوں میں ای ۲۰؍ پیٹرول کے آلودہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔وزارت نے کہا کہ بعض دعوؤں کے برعکس سائنسی بنیاد پر کیے گئے جامع ٹیسٹوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایندھن میں کسی قسم کی آلودگی یا معیار سے متعلق مسئلے پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
صارفین کو تیل کمپنیوں کی یقین دہانی
تیل کمپنیوں نے بھی صارفین کو یقین دلایا ہے کہ ایندھن کا معیار ان کی اولین ترجیح ہے۔ اگر کبھی ایسا مسئلہ سامنے آتا ہے جس سے گاڑی کی کارکردگی یا صارفین کے اعتماد پر اثر پڑنے کا خدشہ ہو تو اس کی فوری طور پر سائنسی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ہر پیٹرول پمپ پر روزانہ کئی بار جانچ
وزارت کے مطابق ملک بھر میں ایندھن کے معیار کی نگرانی مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر پیٹرول پمپ پر روزانہ ۸؍ سے ۱۲؍ مرتبہ پانی کی ملاوٹ اور ایندھن کی کثافت کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر موبائل فیول کوالیٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز بھی تعینات کی گئی ہیں۔ ان ٹیسٹوں کے نتائج کی آزاد ایندھن لیبارٹریوں سے بھی تصدیق کرائی جاتی ہے تاکہ معیار کی یقین دہانی کے اعلیٰ ترین اصول برقرار رہیں۔
۱۰۰؍ سے زیادہ اضافی پیٹرول نمونوں کی جانچ
حکومت نے بتایا کہ ملک کی مختلف ریفائنریز سے ۱۰۰؍ سے زیادہ اضافی پیٹرول کے نمونے بھی بے ترتیب طریقے سے حاصل کرکے ان کی جانچ کی گئی۔ ٹیسٹنگ کے دوران تمام نمونوں میں کلورائیڈ کی مقدار ایک پارٹ پر ملین (پی پی ایم)(PPM) یا اس سے کم پائی گئی، جو مقررہ معیار کے اندر ہے۔ حکومت کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستان کے ریفائننگ اور ایندھن کی تقسیم کے نظام میں موجود معیار کی جانچ کا طریقہ کار مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے اور صارفین تک محفوظ اور مقررہ معیار کے مطابق ایندھن پہنچ رہا ہے۔
ای ۲۰؍ پیٹرول کیا ہے؟
ای ۲۰؍ پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول اور تقریباً ۸۰؍ فیصد پیٹرول شامل ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کے تحت پیٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ بڑھانے کا مقصد درآمد شدہ خام تیل اور ایندھن پر ملک کا انحصار کم کرنا، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ایتھنول کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سپر جائنٹس نےشکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے کی امیدیں برقرار رکھیں
حکومت نے صارفین کو کیا پیغام دیا؟
وزارت نے ایک بار پھر کہا کہ ای ۲۰؍ پیٹرول ہندوستان کی توانائی کی سلامتی، ایتھنول ملاوٹ پروگرام اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومت کے مطابق ای ۲۰؍پیٹرول کے معیار پر مسلسل سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور مختلف سطحوں پر ٹیسٹنگ کے انتظامات موجود ہیں۔ اس لیے صارفین بغیر کسی غیر ضروری تشویش کے ای ۲۰؍ پیٹرول کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کیے گئے اضافی اور سائنسی ٹیسٹوں میں ای ۲۰؍ پیٹرول میں خطرناک آلودگی یا مقررہ معیار سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ ہر پیٹرول پمپ پر پانی کی ملاوٹ اور کثافت کی باقاعدہ جانچ، موبائل لیبارٹریز اور آزاد لیبارٹریز سے تصدیق کے ذریعے ایندھن کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔