نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل کی ۵؍ رکنی بنچ نے اسٹے دیا، سبھاچندرا اب اپنی جائیداد بھی فروخت نہیں کرسکیں گے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 11:28 AM IST | Agency | New Delhi
نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل کی ۵؍ رکنی بنچ نے اسٹے دیا، سبھاچندرا اب اپنی جائیداد بھی فروخت نہیں کرسکیں گے۔
نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے منگل کو ایسیل گروپ کے چیئرمین سبھاش چندرا سے متعلق دیوالیہ ہونے کے معاملے میں اپنے ۲۵؍ اگست کے متنازع حکم پر روک لگا دی ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا ہے کہ وہ بطور ضامن اپنی املاک کو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر منتقل نہ کریں۔ واضح رہے کہ اس فیصلے پر اپوزیشن پارٹیوں سے لے کر ماہرین معیشت تک سبھی نے شدید تنقیدیں کی تھیں اور اسے مودی حکومت کے قریبی صنعتکار کو اتنی بڑی رعایت دینے کی کوشش قرار دیا تھا ۔ روک لگانے کے فیصلے میں بتایا گیا کہ اس معاملے کی سماعت کر رہی سہ رکنی بنچ کی جانب سے جاری حکم میں اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد اس معاملے کو این سی ایل ٹی کی ۵؍ رکنی خصوصی بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔
خصوصی بنچ نے منگل کو معاملے کی سماعت شروع کی اور حکم دیا کہ پہلے کے احکامات میں اختلاف رائے تھا اور کوئی واضح اکثریت نہیں تھی، جسے نافذ کیا جا سکے۔ اس وجہ سے راحت دینے کےفیصلے پر اسٹے دیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ این سی ایل اے ٹی کی بنچ نے ۲۲؍ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کے معاملے میں سبھاش چندرا کو محض ۶؍ کروڑ روپے چکانے کا حکم دیا تھا اور معاملے کو ختم کردیا تھا ۔فیصلے آتے ہی اس پر شدید تنقیدیں ہو رہی تھیں۔ اب این سی ایل ٹی نے تازہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے سے متعلق تمام فریقوں سے جواب طلب کیا ہے ۔ بہرحال اب سبھاش چندرا کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔