بھیونڈی مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں بدعنوانی پر قدغن کے لئے ’ٹیبل کلچر‘ ختم کرنا بھی ضروری۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 12:23 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
بھیونڈی مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں بدعنوانی پر قدغن کے لئے ’ٹیبل کلچر‘ ختم کرنا بھی ضروری۔
میونسپل کارپوریشن میں پراپرٹی ٹیکس کی کم وصولی اور بڑھتے ہوئے بقایے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے میونسپل انتظامیہ کو ٹیکس وصولی کا مؤثر نظام وضع کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو راحت دینے کیلئے ’ابھے یوجنا‘نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کا پراپرٹی ٹیکس بقایا تقریباً ۱۲۰۰؍ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں اصل ٹیکس تقریباً ۶۷۱؍کروڑ روپے ہے جبکہ ۵۶۰؍کروڑ روپے صرف سود اور جرمانے کی شکل میں جمع ہوگئے ہیں۔ایسے میں جرمانے اور سود میں مناسب رعایت دے کر شہریوں کو بقایا ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگ چک یہ کیا کہنے لگے؟
رکن اسمبلی نے یہ مطالبہ میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ڈپٹی میئر طارق مومن کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایک ہی جائیداد کے متعدد یا فرضی اندراجات کی وجہ سے پراپرٹی ٹیکس کی رقم میں مصنوعی اضافہ بھی ہورہا ہے۔ میونسپل انتظامیہ کو ایسی دوہری اور فرضی جائیدادوں کے اندراجات کی جانچ کرکے انہیں ریکارڈ سے خارج کرنا چاہیے تاکہ ٹیکس کے اصل بقایے کی صحیح تصویر سامنے آسکے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں پر عائد پراپرٹی ٹیکس کے جرمانے کو ختم یا کم کرنے کیلئے میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میں فوری طور پر قرارداد منظور کی جائے اور ریاستی حکومت سے مؤثر نمائندگی کی جائے۔ اسی طرح نئی تعمیرات پر ضابطوں کے تحت عائد ہونے والی دُگنی شاستی کو بھی کم یا مکمل طور پر ختم کیا جائے تاکہ شہری جرمانوں کے بوجھ سے نجات پاکر ازخود اپنا پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کیلئے آگے آئیں۔
’ٹیبل کلچر‘ بدعنوانی اور تاخیر کی بڑی وجہ
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے میونسپل کارپوریشن میں مبینہ بدعنوانی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹینڈر کی منظوری سے لے کر کام کے حتمی بل کی ادائیگی تک فائل مختلف ٹیبلوں پر گھومتی رہتی ہے، جس کے باعث ٹھیکیداروں کو غیرضروری تاخیر، دباؤ اور مبینہ رشوت خوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ’ٹیبل کلچر‘ کی وجہ سے نہ صرف بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے بلکہ شہر کے ترقیاتی کام بھی متاثر ہوتے ہیں اور ’ٹھیکیدار راج‘ مضبوط ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد نذرِ آتش کرنے کی کوشش
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر انمول ساگر کو خط دے کر انتظامی طریقۂ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ ایڈیشنل کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی سطح پر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی جائے اور فائلوں کی غیرضروری گردش ختم کی جائے، تاکہ فیصلوں میں تیزی، جواب دہی اور شفافیت پیدا ہو۔انہوں نے زور دیا کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بڑھانے کیلئے صرف سختی کافی نہیں بلکہ شہریوں کو عملی راحت اور آسانی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔’ابھے یوجنا‘، جرمانے میں رعایت اور فرضی اندراجات کی صفائی کے ساتھ اگر انتظامیہ میں ’ٹیبل کلچر‘ کا خاتمہ کیا جائے تو میونسپل کارپوریشن کی آمدنی میں نمایاں اضافہ اور انتظامی نظام میں شفافیت لائی جاسکتی ہے۔