پونے کے ایک کالج میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے لیڈر امیت ٹھاکرے کی جانب سے ایک کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر ہٹانے کی مبینہ ہدایت کا معاملہ اب کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کی سیاست میں بھی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 12:28 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | kalyan
پونے کے ایک کالج میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے لیڈر امیت ٹھاکرے کی جانب سے ایک کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر ہٹانے کی مبینہ ہدایت کا معاملہ اب کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کی سیاست میں بھی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
پونے کے ایک کالج میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے لیڈر امیت ٹھاکرے کی جانب سے ایک کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر ہٹانے کی مبینہ ہدایت کا معاملہ اب کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کی سیاست میں بھی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔ اس واقعہ کے خلاف بی جے پی نے شندے سینا کے ساتھ اپنے اتحاد پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر شندے سینا نے ایم این ایس کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا تو بی جے پی مہایوتی سے الگ ہوکر اپوزیشن میں بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد نذرِ آتش کرنے کی کوشش
واضح رہے کہ کے ڈی ایم سی میں بی جے پی اور شندے سینا کے درمیان اتحاد قائم ہے جبکہ شندے سینا کو ایم این ایس کی بھی حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ اتحاد کے اصولوں کی پابندی کرتی رہی ہے تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی مبینہ توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔بی جے پی کے ضلعی صدر نندو پرب، ڈپٹی میئر راہل داملے،دیپش مہاترے اور دیگر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کا موقف واضح کیا۔
بی جے پی کے ضلعی صدر نندو پرب نے کہا کہ شندے سینا کو ایم این ایس کے ساتھ اپنا اتحاد فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔انہوں نے اس سلسلے میں شندے سینا کے ضلعی صدر گوپال لانڈگے کو ایک خط بھی دیا ہے جس میں ایم این ایس کو اقتدار سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مہایوتی کو برقرار رکھنا ہے تو اس کے لئے شندے سینا کو ایم این ایس کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔
ڈپٹی میئر راہل داملے نے کہا کہ ایم این ایس کی جانب سے ملک کے وزیر اعظم اور بی جے پی کے اعلیٰ ترین قائد نریندر مودی کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہمیشہ اتحاد کے اصولوں کی پاسداری کی ہے لیکن اپنے اعلیٰ ترین قائد کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرےگی۔ اگر ایم این ایس اتحاد کا حصہ رہتی ہے تو بی جے پی اس کے ساتھ اقتدار میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہے
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی پر ہائی کورٹ کی پابندی
میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے گروپ لیڈر ششی کانت کامبلے نے کہا کہ بی جے پی اور شندے سینا نے حالیہ بلدیاتی انتخابات متحد ہوکر لڑے تھے اور اس اتحاد کو۱۰۰؍ سے زائد نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق شندے سینا نے بی جے پی کو اعتماد میں لئے بغیر ایم این ایس کے ساتھ ہاتھ ملایا جو اتحاد کے اصولوں کے منافی ہے۔ کامبلے نے شندے سینا کی جانب سے ریاستی صدر رویندر چوہان پر کی جانے والی تنقید کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ملک میں صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کی تصاویر سرکاری و عوامی اداروں میں احترام کے ساتھ آویزاں کی جاتی ہیں لیکن ایم این ایس نے وزیر اعظم کی تصویر ہٹوا کر تمام حدود پار کردی ہے۔
دوسری جانب پونے کے واقعہ کے بعد بی جے پی کے سخت موقف پر شندے سینا کے ضلعی صدر گوپال لانڈگے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ضلعی صدر نندو پرب کی فون پر ان سے بات ہوئی ہے اور انہیں خط دئیے جانے کی اطلاع بھی دی ہے۔