مہاشیو راتری کے موقع پر سابق ریاستی وزیر اور شیوسینا شندے کے ایم ایل اے عبدالستار نے ضلع کے رحیم آباد میں واقع ناگیشور مندر کادورہ کیا۔ جس پر زعفرانی عناصر نے شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ایک گوشت خور کی آمد سے مندر ’اَشُدھ‘ ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 11:09 AM IST | Agency | Aurangabad
مہاشیو راتری کے موقع پر سابق ریاستی وزیر اور شیوسینا شندے کے ایم ایل اے عبدالستار نے ضلع کے رحیم آباد میں واقع ناگیشور مندر کادورہ کیا۔ جس پر زعفرانی عناصر نے شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ایک گوشت خور کی آمد سے مندر ’اَشُدھ‘ ہوگیا ہے۔
مہاشیو راتری کے موقع پر سابق ریاستی وزیر اور شیوسینا شندے کے ایم ایل اے عبدالستار نے ضلع کے رحیم آباد میں واقع ناگیشور مندر کادورہ کیا۔ جس پر زعفرانی عناصر نے شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ایک گوشت خور کی آمد سے مندر ’اَشُدھ‘ ہوگیا ہے۔ نامعلوم نوجوانوں کے ذریعہ مذکورہ مندر میں گئوموتر کا چھڑکاؤ کئے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ اے بی پی ماجھا کی رپورٹ کے مطابق رحیم آباد میں واقع ناگیشور مندر میں عبدالستار نے ۱۵؍فروری کو دورہ کیا تھا۔ اسی دن کچھ نوجوانوں نے مندر کو ’ناپاک‘ قرار دیتے ہوئے گئو موتر چھڑکا ہے۔کچھ نوجوانوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عبدالستار کے مندر میں داخل ہونے سے مذہبی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس کے بعد مندر احاطے میں ’شُدھی کرن‘ کی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:مفتی شیخ ابوبکر کی وزیر اعظم مودی سے اہم ملاقات،ملک میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ پرگفتگو
مخالفت کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ عبدالستار نان ویجیٹیرین اور ہیں اور وہ گوشت کے ناشتے کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مہاشیو راتری جیسے پوتر موقع پر ایسے شخص کا مندر میں داخلہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مندر میں گئو موتر چھڑکا ہے۔ اس واقعے کے بعد کچھ وقت کیلئے مندر احاطے میں کشیدگی کا ماحول رہا، تاہم کسی بڑے تصادم یا جھڑپ کی اطلاع نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:داداصاحب پھالکے نےہندوستانی فلم سازی میں اہم رول نبھایا
سابق ریاستی وزیرا ور شندے سینا کے لیڈر عبدالستار کی جانب سے اس پورے معاملے پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔بی جے پی آدھیاتمک اگھاڑی کے سربراہ تشار بھوسلے نے کہا کہ’’کیا عبدالستار نے ہندو دھرم قبول کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو پھر انہیں گربھ گرہ (مندر کے اندرونی حصے) کے باہر سے ہی درشن کرنا چاہیے تھا۔ ہمارے دیوی دیوتاؤں کے مندر کوئی یادگاریں نہیں ، گربھ گرہ کے اپنے مذہبی اصول ہیں، سیاسی فائدے کیلئے ہمارے مذہب کے مذہبی اصولوں کو نہ توڑیں۔ اگر آپ کو بہت ہی خواہش ہے تو پھر ہندو دھرم قبول کریں اور مندر میں آئیں۔‘‘