’’حالات جلد معمول پر آنے کے آثار نظر نہیں آتے‘‘

Updated: July 15, 2020, 12:08 PM IST | Agency | Washington

عالمی ادارہ ٔ صحت کے سربراہ نے کورونا وائرس کے سبب بگڑتے ہوئے حالات کیلئے لیڈران کی غیرسنجیدگی کو ذمہ دار قرار دیا۔ دوبارہ پرانے معمولات پر لوٹنے کو مشکل امر قرار دیا۔ امریکی سائنسداں انتھونی فائوچی نے بھی حکام کی جانب سے مکمل لاک ڈائون نہ کرنے کو کورونا مریضوں کے اضافے کی اصل وجہ بتایا

World Health Organization - Pic : INN
عالمی ادارہ صحت ۔ تصویر : آئی ٰاین این

 دنیا بھر میں کورونا وائرس  کے بے تحاشہ بڑھتے معاملات پر عالمی ادارۂ صحت  کے علاوہ امریکی حکومت سے وابستہ  وبائی امراض کے ماہر انتھونی فائوچی نے بھی  تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
 انتھونی فائوچی  نے کہا ہے کہ یہ معاملات مکمل طور پر لاک ڈائون نہ کرنے کے سبب بڑھ رہے ہیں۔ تو ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنہم نے  اس وبائی دور  میں بعض ممالک کی غیر سنجیدگی کو  حالات کے بگڑنے کیلئے ذمہ دار قرار دیا ہے۔  
 حالات جلد معمول پر آنے کے آثار نہیں
 عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنہم  نے معمول کی آئن لائن بریفنگ کے دوران  خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے  معاملات  تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں پرانے معمول کی طرف واپسی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ٹیڈروس  ایڈنہم نے کہا کہ وبا پر قابو پانے میں ابھی بھی تاخیر نہیں ہوئی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک غلط سمت میں گامزن ہیں۔ انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا۔ انہوں نے عالمی لیڈران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ لیڈران کی جانب سے ملے جلے ردعمل کی وجہ سے وبا کا مقابلہ کرنے میں سب سے اہم چیز متاثر ہو رہی ہے یعنی بھروسہ۔‘‘ ٹیڈروس نے کہا کہ اگر حکومتیں اپنے شہریوں  سے صاف صاف بات نہیں کریں گی اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے جامع حکمت عملی نہیں اپنائیں گی تو لوگوں کی زندگیاں نہیں بچائی جا سکیں گی۔
  واضح رہے کہ ٹیڈروس ایڈنہم اس سے قبل بھی عالمی لیڈروں کے درمیا ن نا اتفاقی کو کورونا وائرس کی لڑائی  میں ایک رخنہ قرار دے چکے ہیں۔   ان کا اشارہ واضح طور پر چین اور امریکہ کے درمیان جاری چپقلش کی جانب ہے جس کی وجہ سے کورونا وائرس  میں اضافے کے علاوہ عالمی معیشت کے بحران کا بھی خدشہ ہے۔ساتھ ہی کسی بڑی جنگ کا خدشہ بھی نظر آ رہا ہے۔  
 کورونا کریئر کا سب سے بڑا چیلنج
  ادھر امریکی سائنسداں ڈاکٹر فاؤچی نے پیر کواسٹین فورڈ اسکول آف میڈیسن کے ایک ورچوئل سیمینار  سے خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا کہ‘‘ میں  نے ایڈز، ایبولا، اینتھریکس اور زیکا وائرس کی وبائیں دیکھی ہیں لیکن کورونا وائرس واضح طور پر میرے کریئر کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ بات واضح ہے اور ہم نے دوسرے ممالک کے تجربے سے بھی سمجھا  ہے کہ آپ لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر کے انھیں وائرس پھیلانے سے روک سکتے ہیں لیکن امریکہ میں مکمل شٹ ڈاؤن نہیں کیا گیا۔ ابتدا میں کیس بڑھے تو کچھ بندشیں لگائی گئیں۔  لیکن پھر ملک (کاروبار)کھلنا شروع ہو گیا اور اب ہم مختلف ریاستوں میں مرض میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ 
 انھوں نے کہا دوبارہ لاک  ڈاؤن کرنا ضروری نہیں لیکن تھوڑا پیچھے ہٹنا پڑے گا اور پھر رہنما ہدایات کے مطابق قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہو گا۔ آپ جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے۔ سماجی فاصلہ رکھیں، ماسک پہنیں، ہجوم سے پرہیز کریں، ہاتھ دھوئیں۔  واضح رہے کہ انتھونی فائوچی اس کورونا ٹاسک فورس کے سربراہ تھے جو امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے قائم کی تھی لیکن بعد میں خود ٹرمپ نے اس فورس کوختم کر دیا تھا۔  
 منگل کو حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق  دنیا بھر میں  ایک کروڑ ۳۲؍ لاکھ ۶۹؍ ہزار  ۳۲۶؍  افراد کورونا  میں مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے اب تک  ۵؍ لاکھ ۷۶؍ ہزار ۴۰۹؍ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK