• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: زچگی بحران ختم کیا جائے: برطانیہ، آئرلینڈ کی ۱۰۰؍ معروف ماؤں کا حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ

Updated: January 08, 2026, 7:02 PM IST | London

برطانیہ اور آئرلینڈ کی تقریباً ۱۰۰؍ مشہور ماؤں اور فنکار شخصیات نے حکومتِ برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں شدید ہوتے زچگی بحران کے پیشِ نظر فوری کارروائی کرے۔ خط میں خواتین کی ولادت کے غیر انسانی حالات، امداد کی بندش اور سرحد پر رکے موبائل میٹرنٹی کلینکس پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ اور آئرلینڈ کی تقریباً ۱۰۰؍ معروف ’’ماؤں‘‘ نے حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں ’’بڑھتے زچگی بحران‘‘ کے تناظر میں فوری اقدامات کرے۔ اس مطالبے کا اظہار جمعرات کو والدین کیلئے قائم لندن کے معروف آن لائن پلیٹ فارم ’’ممس نیٹ‘‘ Mumsnet پر شائع ہونے والے ایک کھلے خط کے ذریعے کیا گیا۔ اس خط پر دستخط کرنے والی مشہور شخصیات میں جولیٹ اسٹیونسن، جوڈی ڈینچ، امیلڈا سٹونٹن اور جوانا لملی شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ کرسمس کے موقع پر اپنے بچوں کے ساتھ خوشیوں کے لمحات بانٹتے ہوئے، غزہ میں سیلاب زدہ خیموں میں رہنے والے بچوں کی تصاویر، جہاں خوراک اور طبی امداد میسر نہیں، انتہائی دل دہلا دینے والی تھیں۔ یہ خط اسرائیل کے اس متنازع فیصلے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جس کے تحت ۳۷؍ بین الاقوامی شہرت یافتہ فلاحی اداروں پر پابندی عائد کی گئی، جن میں آکسفیم، سیو دی چلڈرن اور ڈاکٹر ودآؤٹ بارڈرس (ایم ایس ایف) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ : ہزاروں بے گھر افراد کو فوری امداد کی ضرورت

دستخط کنندگان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خواتین ’’ناقابلِ تصور حالات‘‘ میں زچگی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں، جہاں بہت سی خواتین تنہا اور غیر معمولی خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ چار بالکل نئے اور جدید موبائل میٹرنٹی کلینک،جنہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی، مصر میں سرحد کے اس پار انتظار کر رہے ہیں۔ خط کے مطابق، ’’غزہ میں ہم ماؤں اور باپوں کی بے مثال محبت اور اپنے بچوں کی پرورش کی صلاحیت دیکھ رہے ہیں، لیکن محض محبت خوراک، پناہ، یا زندگی بچانے والے سامان کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘‘ مزید کہا گیا کہ چونکہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے امداد کی بندش کو حکومتِ برطانیہ کی حمایت حاصل ہے، اس لئے برطانوی شہریوں پر لازم ہے کہ وہ اس اہم امداد کی فراہمی پر اصرار کریں۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال میں مسجد پر حملے کے بعد حالات بے قابو، کرفیو نافذ

دستخط کنندگان نے Mumsnet سے اپیل کی کہ وہ حکومتِ برطانیہ پر دباؤ ڈالے تاکہ اسرائیل موبائل میٹرنٹی کلینکس کو فوری داخلے کی اجازت دے، آزاد این جی اوز کو مکمل انسانی امداد کی فراہمی کیلئے مکمل رسائی دی جائے، اور خواتین و لڑکیوں کیلئے سینیٹری پیڈز سمیت ماہواری اور حفظانِ صحت کا ضروری سامان پہنچایا جائے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے اپنی دو سالہ جارحیت کے ایک حصے کے طور پر مئی ۲۰۲۴ء سے رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کو بند کر رکھا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اس جارحیت میں ۷۱؍ ہزار ۴۰۰؍ سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، حماس نے ۱۰؍ اکتوبر سے نافذ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی تحویل میں موجود تمام زندہ اسرائیلی اسیران اور ۲۸؍ کی باقیات کو اسرائیل کے حوالے کردیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی فوج کی جانب سے سیکڑوں خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں ۴۲۲؍ فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزار ۱۸۹؍ زخمی ہوئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK