• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ۵۰۰؍ فیصد تک ٹیرف، ہندوستان بھی شامل

Updated: January 08, 2026, 6:09 PM IST | Washington

امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پابندیوں کے ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ۵۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ بل کے تحت صدر کو چین، ہندوستان اور برازیل جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا اختیار ملے گا تاکہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں، جسے یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے جوڑا جا رہا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی سینیٹر لِنڈسےگراہم نے آج کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پابندیوں کے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ۵۰۰؍  فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ گراہم کے مطابق، یہ قانون امریکی کانگریس سے منظوری کے بعد صدر ٹرمپ کو ’’ان ممالک کو سزا دینے کا اختیار دے گا جو سستا روسی تیل خرید کر پوتن کے جنگی مشن کو تقویت دیتے ہیں۔‘‘  ریپبلکن سینیٹر نے کہا کہ یہ بل صدر ٹرمپ کو چین، ہندوستان اور برازیل جیسے ممالک کے خلاف ’’غیر معمولی فائدہ‘‘ دے گا تاکہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں، جو ان کے بقول یوکرین کے خلاف پوتن کی جنگ کیلئے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔ گراہم نے بتایا کہ یہ بل اگلے ہفتے کانگریس میں ووٹنگ کیلئے پیش کیا جا سکتا ہے اور انہیں اس پر حمایت کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ موزوں وقت ہے، کیونکہ یوکرین امن کیلئے رعایتیں دے رہا ہے جبکہ پوتن باتوں کے ساتھ ساتھ بے گناہوں کو قتل کرنا بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: امریکی ویزا بونڈ پالیسی میں مزید ۲۵؍ ممالک شامل

خیال رہے کہ یہ اعلان اس بیان کے چار دن بعد سامنے آیا جس میں گراہم نے کہا تھا کہ وہ ایسا بل متعارف کرانے کی امید رکھتے ہیں جس میں ٹیرف کی شرح صفر سے ۵۰۰؍ فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ٹیرف کی حتمی شرح کا انتخاب صدر ٹرمپ کریں گے۔ گراہم نے صحافیوں سے کہا کہ “نمبر وہ منتخب کریں گے، کوئی اور نہیں۔‘‘  انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو جاری رکھتا ہے تو اس بل کا مقصد صدر کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ ٹیرف کے ذریعے ایسے ممالک کو مشکل فیصلوں پر مجبور کر سکیں۔ اپنے مؤقف کی تائید میں گراہم نے اتوار کو بتایا کہ ایک نجی گفتگو میں ہندوستانی سفیر نے انہیں کہا کہ ہندوستان روسی تیل کی خریداری کم کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ ایسی درآمدات سے منسلک ٹیرف میں نرمی کی جائے۔
صدر ٹرمپ کی موجودگی میں گراہم نے کہا کہ یوکرین میں تنازع کے خاتمے کیلئے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ’’میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ جو اقدامات کئے ، وہی بڑی وجہ ہیں کہ ہندوستان اب کافی حد تک روسی تیل کی خریداری کم کر رہا ہے۔‘‘ یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کے دوران روس سے رعایتی تیل خریدنے والے ممالک پر دباؤ ڈالنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے تحت ہندوستان اور دیگر ممالک پر تعزیری محصولات متعارف کرائے گئے۔ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ہندوستانی اشیا کو مجموعی طور پر ۵۰؍ فیصد امریکی ٹیرف کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا ۳۰؍ سے ۵۰؍ملین بیرل تیل ہمارے حوالے کرے گا: ٹرمپ، روڈریگز نےامریکی تسلط کا بیانیہ مسترد کیا

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ متعدد بار یہ الزام دہرا چکے ہیں کہ ہندوستان سمیت بعض ممالک کی جانب سے رعایتی روسی تیل کی درآمد یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کو تقویت دے رہی ہے۔ گراہم کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کی درآمدات میں کمی نہیں کرتا تو امریکہ ہندوستان پر مزید محصولات بڑھا سکتا ہے۔ منگل کو ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ تعزیری محصولات نے نئی دہلی کو روس سے درآمدات کم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ تاہم، ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے گراہم اور ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ نئی دہلی کا مؤقف برقرار ہے کہ مستحکم توانائی قیمتوں اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانا ہندوستان کی توانائی پالیسی کے بنیادی مقاصد ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK