اب اترپردیش میں صرف ۱۱؍ ضلع میں کورونا کرفیو، مزید۳؍اضلاع میں نرمی

Updated: June 02, 2021, 11:48 AM IST | Agency | Lucknow

اترپردیش میں کورونا انفیکشن میں کمی کے درمیان منگل کو مزید ۳؍ اضلاع میں کورونا کرفیو میں نرمی کی گئی جس کے بعد ریاست کے کل ۷۵؍اضلاع میں سے اب صرف ۱۱؍ اضلاع میں کورونا کرفیو کا نفاذ ہوگا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 اترپردیش میں کورونا انفیکشن  میں کمی کے درمیان منگل کو مزید ۳؍ اضلاع میں کورونا کرفیو میں نرمی کی گئی جس کے بعد ریاست کے کل ۷۵؍اضلاع میں سے اب صرف ۱۱؍ اضلاع میں کورونا کرفیو کا نفاذ ہوگا۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نےمنگل کو کووڈ۱۹؍ سے متعلق انتظام کیلئے تشکیل شدہ ٹیم۹؍ کی میٹنگ میں کہا کہ کورونا انفیکشن کی کم ہوتی شرح  کے پیش نظر پیر کو ۶۰۰؍ایکٹیو کیس سے کم تعداد والے ۶۱؍اضلاع میںکورونا کرفیو سے ہٹادیاگیا تھا۔  منگل کو لکھیم پور کھیری،جونپور،اور غازی پور اضلاع میں کل ایکٹیو کیسز۶۰۰؍سے کم رہ گئے ہیں۔ ایسے میں اب ان اضلاع میں بھی ہفتہ میں ۵؍ دن صبح ۷؍ بجے سے شام ۷؍بجے تک کورونا کرفیو  میں چھوٹ دی جائےگی۔ ہفتہ وار اورنائٹ کرفیو کے ساتھ دیگر تمام متعلقہ اصول وضوابط ان اضلاع میں نافذ ہونگے۔ اس وقت پوری ریاست میں صرف ۱۱؍ضلع بچے ہیں جہاں  کورونا کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵؍ ہفتے میں ریاست میں ایکٹیو کیس میں۸۹ء۵؍فیصد کمی آئی ہے جبکہ موجودہ وقت  ریکوری شرح ۹۶ء۹؍ فیصد ہوگئی ہے۔ ایگریسیو ٹیسٹنگ کے بعد بھی نئے کسیز لگاتا رکم ہو رہے  ہیں۔ جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں ہر دن اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ ۳۰؍اپریل کو ریاست میں تقریباً۳؍لاکھ ۱۰؍ہزار ۷۸۳؍کورونا مریض تھے جبکہ لگاتار کوششوں سے آج ۳۲؍ ہزار ۵۷۸؍ایکٹیو کیسز ہی رہ گئے ہیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ کورونا کرفیو کےاصول وضوابط پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ نائٹ کرفیو پر مکمل طور سے عمل ہو۔ شام ۶؍بجے  ہی سے پولیس اور مقامی انتظامیہ سرگرم ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۲۴؍گھنٹوں میں۳؍لاکھ ۲۳؍ہزار۷۹۵؍ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ اس دوران ریاست کے کسی بھی ضلع میں ۱۰۰؍سے زیادہ نئے معاملے ریکارڈ نہیں کئے گئے ہیں۔یہ کافی اطمینان بخش ہے۔یوپی میں اب تک ۴؍ کروڑ ۹۷؍ لاکھ ۳۳؍ہزار۱۴۱؍کورونا ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK