’ شہری سہولیات سے محروم ۵؍ علاقوں میں کورونا کےمریض زیادہ ‘

Updated: July 01, 2020, 8:24 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

’پرجا فاؤنڈیشن ‘ کی رپورٹ میں انکشاف۔ ان علاقوں میں پانی کی قلت ، آلودہ پانی ، گٹریں بند ہونے اور کوڑاکرکٹ نہ اٹھائے جانے کی شکایتیں عام ہیں

Praja Foundation - Pic : Inquilab
پرجافاؤنڈیشن کی جانب سے شہری سہولت سے متعلق جاری کی گئی آن لائن رپورٹ۔ (تصویر: انقلاب

ممبئی کے جن ۵؍ میونسپل وارڈوں میں جھوپڑپٹیاں  زیادہ ہیں اوربرہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی) کی  بنیادی سہولتوں کا فقدان ہیں،  ان علاقوں میں کورونا وائرس سے لوگ زیادہ متاثر پائے گئے ہیںاور وہ علاقے کنٹینمنٹ زون بن گئے ہیں۔شہریوں نے پانی کی قلت، آلودہ پانی ، بیت الخلا پائپ لائن سے جڑی  نہ ہونا،نالیاں بہنا یا بند ہو جانا اور کوڑا کرکٹ نہ اٹھانا  جیسی شکایتیں کی ہیں۔یہ انکشاف  غیر سرکاری تنظیم ’پرجا فاؤنڈیشن‘  کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ’ممبئی میں شہری مسائل صورتحال‘ (  ’اسٹیٹس آف سیوک اشیوز اِن ممبئی ۲۰۲۰ء‘  )  سالانہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ 
  یہ رپورٹ  پرجا فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر  ملند مہسکے،پرجا کے ٹرسٹی  نتائی مہتا کی نگرانی  میں  یوگیش مشرا اور جنیفر اسپینسر نےمائیکرو سافٹ ’ٹیمس میٹ‘ پر منگل کی دوپہر ۳؍ بجے آن لائن جاری کی۔
 رپورٹ پیش کرتے ہوئے جنیفر نے بتایا کہ’’ بی ایم سی کو موصول ہونے والی شکایتوں  کا مطالعہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ جن علاقوں میںشہری سہولتیں کم ہیں، وہ علاقے اب کورونا وائرس  سے متاثر پائے جارہے ہیں۔ ان میونسپل وارڈوں میں  ایل (کرلا)، ایم ایسٹ (گوونڈی)، ایس وارڈ (وکھرولی ،بھانڈوپ)، کے ویسٹ (اندھیری ایسٹ) اور آر ساؤتھ ( کاندیولی) شامل ہیں۔ صرف ان  ۵؍ میونسپل وارڈوں میں سال بھر میں پانی کی قلت کی کل ایک ہزار ۴۲۰؍ شکایتیں موصول ہوئی ہیں جبکہ بقیہ ۱۹؍ وارڈوں سے ۳؍ ہزار ۸۴؍ شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ مذکورہ  پانچ وارڈوں میں جھوپڑ پٹی یا چالیوں میں کورونا کے ۳۵۲؍  کنٹینمنٹ زون ہیں اور بقیہ ۱۹؍ وارڈوں میں ۴۰۴؍  کنٹینمنٹ زون ہیں۔ ۵؍ متاثرہ وارڈوں میں بھی پانی کی قلت کی سب سے زیادہ ۴۴۴؍ شکایتیں اندھیری (ویسٹ)  علاقے (کے ویسٹ وارڈ)  سے  موصول ہوئی ہیں۔   ‘‘ انہوںنے مزید بتایاکہ ’’ بی ایم سی کو اتنا  پانی دستیاب ہے کہ ہر شہری کو اوسطاً ۱۸۸؍ فی لیٹر دیا جاسکتا ہے    جو معیاری ۱۳۵؍ فی لیٹر سے بھی زیادہ ہے۔گویا ممبئی میں اوسط سے زیادہ پانی مل رہا ہے  لیکن دوسرا ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ بی ایم سی کو ۱۹؍ فیصد شکایتیں  پانی کم ملنے کی تھیں ۔ اسی طرح  بی ایم سی نے ۲۰۱۴ء میں ۲۴؍ گھنٹہ پانی سپلائی کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن۶۶؍ فیصد زون میں ۶؍ گھنٹے سے کم پانی سپلائی کیا جاتا  ہے۔ ‘‘  انہوںنے مزید بتایاکہ ’’ ایل وارڈ ( کرلا) جہاں ۵۴؍ فیصد آبادی جھوپڑپٹی میں رہتی ہیں، وہاں نالیاں  بھر کر بہنےاوربند ہوجانے کی  ایک ہزار ۳۴۴؍ شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح کے ویسٹ وارڈ میں ان شکایتوں کی تعداد ایک ہزار ۹۸۱؍ درج کی گئی  ہیں۔ اسی طرح عوامی بیت الخلاء سے متعلق سب سے زیادہ  ۴۲؍  شکایتیں ایم ایسٹ وارڈ سے  اور اس کے بعد ۳۷؍آر ساؤتھ وارڈ سے موصول ہوئی ہیں جہاں ۵۸؍ فیصد آبادی جھوپڑ پٹی میں آباد ہیں۔‘‘
وارڈوں میں کورونا زیادہ کیوں؟
 نمائندہ ٔ انقلاب کے اس سوال پر کہ متذکرہ ۵؍ وارڈوں میںکووڈ ۱۹؍ کے مریضوں کی تعداد زیادہ کیوں ملی ہے ؟ تو ملند مہسکے نے بتایاکہ ’’ چونکہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں نہیں مل سکی ہیں اس لئے انہیں پانی اور دیگر ضروری سہولتیں حاصل کرنے کیلئے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے جہاں شہریوں کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ عوامی مقامات پر اس کا قوی امکان ہوتا ہے کہ کورونا وائرس پھیلے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’گوونڈی(ایم ایسٹ)  اور اندھیری جیسے علاقوں میں جہاں بڑی تعداد میں لوگ عوامی بیت الخلاء کا استعمال کرتے ہیں  ، وہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔‘‘
  پرجا کے ٹرسٹی  نتائی مہتا نے مزید کہا کہ ’’  اب بھی بی ایم سی کے ۵۸؍ فیصد عوامی بیت الخلاء  میںبجلی کنکشن نہیں ہے۔صرف ۲۸؍ فیصد بیت الخلاء سیوریج پائپ سے جڑے ہیں  ۔ ان میں ایم ایسٹ وارڈ میں سب سے کم ۳؍  فیصد ، ایس وارڈ میں ۴؍ فیصد اور ایچ ویسٹ وارڈ  میں ۷؍ فیصد ہی بیت الخلاء سیوریج لائن سے جڑے ہیں۔‘‘
  بی ایم سی نے دعویٰ کیا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے گھر گھر جاکرصدفیصد کچرا اٹھایاجارہا ہے لیکن اب بھی شہریو ںسے ۳۶؍فیصد شکایتیں کچرا نہ اٹھانے کے تعلق سے کی گئی ہیں لہٰذا پرجا کا مشورہ ہے کہ بی ایم سی کو گیلا کچرا ختم کرنے پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK