ریلوے ٹرمنس پر ۲؍دنوں میں ۲۰؍ہزار مسافروں کی کورونا جانچ

Updated: November 29, 2020, 7:54 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

دہلی، گجرات، گوا اور راجستھان سے آنے والی ٹرینوں کی خصوصی چیکنگ جاری،اب تک ۷؍مسافر کورونا سے متاثر پائے گئے

Corona Test
ممبئی سینٹرل اسٹیشن پر مسافروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔

کورونا کے پھیلاؤ ، اس سے بچاؤ کے لئے اور اس خطرناک مرض کے تعلق سے جس طرح کی خبریں ہمہ وقت گشت کررہی ہیں اس سے نمٹنے کی غرض سے حکومت کی جانب سے ہر سطح پر احتیاطی اقدامات  کئے جارہے ہیں۔ اسی کے پیش نظرتمام ریلوے ٹرمنس پر بی ایم سی اور ریلوے کی جانب سے طبی ٹیمیں مسافروں کا باڈی ٹمپریچر اور آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ ریلوے کی جانب سے بھی جی آر پی، آر پی ایف، ٹکٹ چیکر اسٹاف اور طبی عملہ کو بھی مامور کیا گیا ہے تاکہ مل جل کر کام کیا جاسکے۔۲؍دنوں میں الگ الگ ٹرمنس پر تقریباً  ۲۰؍ہزار مسافروں کی کورونا جانچ کی گئی اور۷؍مسافر پازیٹیو پائے گئے۔ بطور خاص ۴؍ریاستوں دہلی، گوا، گجرات اورراجستھان سےآنے والی ٹرینوں کے مسافروں کی جانچ کی جارہی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ ان ریاستوں سے کوئی متاثر مریض تو ممبئی نہیں پہنچا ہے کیونکہ ان‌ ریاستوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
تمام ٹرمنس پر نگرانی
   اس تعلق سے ڈپٹی سیکوریٹی آفیسر ابھیجیت بی تاوڑے نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ۲؍‌ دن پہلے سے ہی تمام ٹرمنس پر جانچ کا یہ سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ اس کے لئے سی ایس ایم ٹی، دادر ، باندرہ، ایل ٹی ٹی، تھانے، کلیان،پنویل، وسئی روڈ اور دہانوروڈ وغیرہ میں الگ الگ ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں۔میرا خاص کام سیکوریٹی انتظامات کی نگرانی ہے۔ نگرانی پر مامور ایک ڈاکٹر نے بی ایم سی کے سرکیولر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کام ۶؍وارڈ کی سطح پر کیا جارہا ہے جس کی حدود میں‌ الگ الگ ٹرمنس آتے ہیں۔
 واضح ہوکہ بی ایم سی کے سرکیولر کے مطابق مہاراشٹر میں داخل ہونے سے ۹۶؍گھنٹے قبل کرائے گئے ٹیسٹ کی رپورٹ قبول کی جائے گی۔ جن مسافروں کے پاس پہلے سے مذکورہ ٹیسٹ رپورٹ نہیں ہوتی ہے ان کی تھرمل گن سے باڈی ٹیمپریچر کی پیمائش کی جارہی ہے اور جسم کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ ہونے پر ٹرمنس پر ہی ایسے مسافروں کا آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جس کی رپورٹ ۱۵؍ سے ۲۰؍ منٹ کے اندر آجاتی ہے۔
 جن مسافروں کی رپورٹ پازیٹیو آتی ہے ، ان کو کوارینٹاین سینٹر بھیجا جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی صلاح کے مطابق ان کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔ہر وارڈ کی سطح پر کوارینٹائن سینٹر بنائے گئے ہیں۔بی ایم سی کے پی آر او تاناجی کامبلے نے بتایا کہ پہلے دن یعنی ۲۶؍نومبر کو ۱۳؍ہزار۲۵۳؍ مسافروں کی الگ الگ ٹرمنس پر مختلف وارڈوں اور وارڈ افسران کی نگرانی میں جانچ کی گئی ۔ان میں ’اے‘ وارڈ میں‌ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس پر۶۲۶؍،’ ڈی‘ وارڈ ممبئ سینٹرل میں۳۲۳۶؍ ، ’جی‘ نارتھ وارڈ دادر میں۱۲۳۹؍ ، ’ایل‘ وارڈ ایل ٹی ٹی میں۱۳۲۱؍ ،’ ایچ ایس‘ وارڈ باندرہ ٹرمنس میں ۳۰۱۰؍ اور’ آر‘ سینٹرل وارڈ بوریولی میں۳۸۲۱؍ مسافروں کی جانچ کی گئی۔
 دوسرے دن یعنی ۲۷؍نومبر کو باندرہ کی۶؍ ٹرینوں میں۱۷۱۲؍ مسافروں کی جانچ کی گئی اور کوئی پازیٹیو کیس نہیں ملا، ایل ٹی ٹی میں ۴۵۰؍ میں سے ۲؍پازیٹیو کیس پایا گیا اور چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس میں ۲۵۷؍مسافروں کی جانچ کی گئی اور ایک کیس پازیٹیو پایا گیا۔بقیہ دادر، ممبئی سینٹرل اور بوریولی کی جانچ کی تفصیل نہیں دی گئی۔اس فہرست میں ویسٹرن ریلوے میں سفر کرنے والے مسافروں کی اکثریت اس لئے ہے کہ بیشتر ٹرینیں ویسٹرن‌ ریلوے میں ہی چاروں ریاستوں سے آرہی ہیں ۔اس کے علاوہ حالات کو دیکھتے ہوئے بہت سے مسافر خود طبی رپورٹ لے کر بھی سفر کر رہے ہیں۔
 بی ایم سی کے پی آر او کے مطابق دوسرے دن بھی تقریبا ًاتنی ہی تعداد میں جانچ کی گئی ہے لیکن چھٹی کا دن ہونے کے سبب ۶؍وارڈوں کی مجموعی رپورٹ نہیں ملی اس کے باوجود ایک اندازے کے مطابق اب تک ۲۰؍ہزار سے زیادہ مسافروں کی جانچ کی گئی ہے اور ان میں سے  ۷؍ مسافروں میں  کووڈ۔۱۹؍ کی علامات پائی گئی ہیں اور الگ الگ وارڈ کی  جانب سے ان کے اہل خانہ کومطلع بھی کردیا گیا ہے۔پازیٹیو کیس میں پہلے دن دادر میں ۲؍ اور باندرہ میں ایک کیس شامل ہے۔اس جانچ کا بنیادی مقصد احتیاط کے ساتھ متاثر مسافروں کی نشاندہی ، ان کا علاج اور ایسے مسافر کو دوسروں کے رابطے میں آکر اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنا اور بچانا ہے۔ویسٹرن ریلوے کے چیف آر او سمیت ٹھاکر نے کہا کہ ریلوے کی جانب سے پورا تعاون کیاجارہا ہے اور حسب ضرورت ہر سہو لت مہیا کروائی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK