لاک ڈائون : مزدوروں پر بھوکوں مرنےکی نوبت آ سکتی ہے

Updated: March 26, 2020, 5:09 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

کاروبار بند ہونے سے مدنپورہ، سیوڑی، دھاراوی اور گوونڈی میں ہزاروں مزدور اور کاریگر بے روزگار ۔ذرائع نقل وحمل بند ہونے سے وطن بھی نہیں لوٹ سکتے۔ فی الحال سماجی تنظیموں اور آس پڑوس والوں کی مدد پر گزارا۔ سماجی کارکنان کی حکومت سے مزدوروں کو مفت راشن فراہم کرنے کی اپیل، جلد ہی وزیراعلیٰ سے ملاقات کا ارادہ

Labors - Pic : Inquilab
لاک ڈاؤن کے سبب مزدوروں کوپریشان حال دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: انقلاب

کورونا وائر س کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سےپورے ملک میں ۱۴؍اپریل تک لاک ڈائون کے اعلان سے ممبئی شہر ومضافات کے مزدور وں، غریبوںاور چھوٹے موٹے  کاریگروں کی بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔اس کی وجہ سے  ان لوگوں میں  بے چینی پائی جا رہی ہے۔مدنپورہ ،  چیتاکیمپ، گوونڈی ، سیوڑی اور دھاراوی میں لاکھوں غریب افراد کیلئے دووقت کی روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہورہاہے۔
 حالانکہ ان علاقوںمیں ملی اورسماجی تنظیمیں،نوجوانوں کےگروپ اور کچھ افراد انفرادی طورپر انہیں کھانا وغیرہ فراہم کررہے ہیں ۔ لیکن یہ انتظامات  ان مزدوروں اور کاریگروں کی تعداد کےمقابلے میں ناکافی ہے۔ اس لئے متعدد سماجی تنظیموں کے ذمہ داران جلد ہی اس تعلق سےاین سی پی کےسربراہ شردپوار، ریاستی وزیر اعلیٰ اُدھوٹھاکرے اور ریاستی وزیر برائے رسد وخوراک چھگن بھجبل کو مکتوب روانہ کرکے ان افرادکیلئے مفت راشن اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کروانےکا مطالبہ کریں گے۔ ساتھ ہی ان لیڈران سے ملاقات کرنےکی بھی کوشش کی جارہی ہےتاکہ ذاتی طورپر اس مسئلہ پر تبادلۂ خیال کیاجاسکے۔
 اس سلسلے میں سماجی کارکن مولانا محمود دریابادی نے بتایاکہ ’’ وزیر اعظم کی جانب سےلاک ڈائون کے اعلان کے بعد چیتا کیمپ، گوونڈی، مدنپورہ، دھاراوی اور سیوڑی کے ملی اور سماجی کارکنوںنے فون کرکے وہاں کے زمینی حالات بیان کئے جس سے معلوم ہوا کہ  اگر ۱۴؍اپریل تک اسی طرح  ان کا کام دھندہ بند رہا   تو مزدور اور پسماندہ طبقے کی فیملی کیلئے بھوکوں مرنے کی نوبت آجائے گی۔ لہٰذا ایسی صورت  میں ان لوگوںکیلئے ابھی سےراشن وغیرہ کا انتظام کرنےکی ضرورت ہے۔‘‘ محمود دریابادی  نے کہا کہ اس سلسلے میںمختلف سماجی اداروںکے ذمہ داران نے فیصلہ کیاہےکہ وہ پہلے اس تعلق سے شرد پوار ، ادھو ٹھاکرے اور چھگن بھجبل  وغیرہ  کو مکتوب روانہ کریں گےبعدازیں ان سے ملاقات کر کے ان افراد کیلئے مفت راش کا مطالبہ کریںگے۔
  مولانا محمود دریابادی کےمطابق ’’ قدوائی نگر سیوڑی کپڑا مارکیٹ کے محمد یاسین نے بتایاکہ یہاں تقریباً ساڑھے ۳؍ہزار مزدور اوران کے اہل خانہ رہتے  ہیں جن کی زندگی روز کنواں کھودو روز پانی پیو  والے قاعدے پر گزرتی ہے۔اب کام کاج بندہو جانے  کی وجہ سے   ان کیلئے گزربسر کا مسئلہ پیدا ہوگیاہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد حالانکہ اپنے  طورپر ان کے کھانے پینے کا انتظام کررہےہیں۔ اس کےباوجود سب کی ضرورتیں پوری کرنا ممکن نہیں ہے۔
  اسی طرح چیتا کیمپ کے مفتی آزاد اور جمال سنجر نے بتایاکہ یہاں زردوزی اورموتی چپکانے کا کام کرنےوالے کم وبیش ۲؍ہزار افراد رہتے ہیں۔ ہیںجو یومیہ مزدوری پر زندگی گزارتے ہیں۔ گوونڈی کے مولانا ذاکر قاسمی نے جو اطلاع دی ہے اس کے مطابق یہاں بہار،بنگال اوراُترپردیش کے کئی ہزار افراد بسے ہوئے  ہیں جو دن ورات محنت کرکے اپنی ضروریات پوری کرتےہیں مگر کورونا کی وجہ سے ان کی زندگی ٹھپ ہوگئی ہے۔ ریلوے سروس منقطع ہونے سے وہ وطن بھی نہیں جاسکتےہیں۔  ان کیلئے۲؍ وقت کی روٹی کا مسئلہ ہے۔ سائن دھاراوی اور مدنپورہ کے علاقوںمیں بھی اسی طرح کے مسائل ہیں۔ مفتی آزاد کے مطابق ’’ اسی لئے ہم نے فیصلہ کیاہےکہ ان حقائق سے ہم حکومت کو آگاہ کریں گےاور ان کیلئے مفت راشن تقسیم کروانے کا مطالبہ کریں گے۔‘‘  واضح رہے کہ حکومت نے منگل کو اچانک رات ۸؍ بجے ملک بھر میں لاک ڈائون کا اعلان کیا جو کہ رات ۱۲؍ بجے سے نافذ ہو گیا۔لہٰذا یہ لوگ نہ اپنے وطن جاسکتے  ہیں نہ یہاں کر کوئی روزگار تلاش کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK